ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / فرقہ وارانہ غنڈہ گردی کو بلامروت کچلا جائے،ڈی جی پی دفتر میں اعلیٰ پولیس افسران کو سدرامیا کی تاکید

فرقہ وارانہ غنڈہ گردی کو بلامروت کچلا جائے،ڈی جی پی دفتر میں اعلیٰ پولیس افسران کو سدرامیا کی تاکید

Tue, 11 Jul 2017 09:35:56    S.O. News Service

بنگلورو،10؍ جولائی(ایس اونیوز) دکشن کنڑا ضلع میں پچھلے تین چار دنوں سے جاری فرقہ وارانہ فسادات کو قابو میں کرنے میں اعلیٰ پولیس عہدیداروں کی ناکامی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدرامیا نے پولیس عہدیداروں کو اختیار دے دیا ہے کہ اشرار کے خلاف کوکا یا غنڈہ قانون سختی سے لاگو کریں۔ آج ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کے دفتر میں اعلیٰ پولیس عہدیداروں کے ساتھ ریاست کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے والے مذہبی بنیاد پرستوں پر سخت نظر رکھی جائے۔انہوں نے ڈی جی پی آر کے دتہ کو ہدایت دی کہ فوری طور پر وہ منگلور پہنچ کر امن میٹنگ کا اہتمام کریں۔ سدرامیا نے اس میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ منگلور میں ہوئے واقعات افسوسناک ہیں۔ منگلور ریاست کا ایک امن پسند خطہ رہا ہے، لیکن چند فرقہ پرست طاقتوں کی وجہ سے یہاں اشتعال انگیزی ہوئی اور فرقہ وارانہ ٹکراؤ کی نوبت آگئی، اس کی سرکوبی کیلئے افسران کو ضروری قدم اٹھانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ شرپسندوں کے خلاف انسداد غنڈہ گردی قانون اور کوکا جیسے سخت قوانین کو استعمال کرنے پولیس کو آزادی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کہیں بھی اگر فرقہ وارانہ ٹکراؤ کی صورتحال پید ا ہو، سڑکوں پر اترکر بلوا مچانے والوں کے ساتھ ان کے پیچھے کام کرنے والی طاقتوں پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے،کیونکہ ہر بار فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے والی طاقتیں آسانی سے بچ نکلتی ہیں، آر ایس ایس ہو ، بجرنگ دل ہو یا ایس ڈی پی آئی کسی کی بھی طرف سے اشتعال انگیزی قطعاً برداشت نہ کی جائے اور ان تنظیموں کے کارندوں کے خلاف بے رحمی سے کارروائی کی جائے۔ ایسے وقت میں جبکہ امتناعی احکامات لاگو ہوں کسی کو بھی احتجاج ،جلوس یا کسی بھی پروگرام کی اجازت نہ دی جائے۔ اس ریاست میں کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہر ضلع کی ذمہ داری وہ ایک اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کے سپرد کریں گے اور وہاں نظم وضبط کیلئے وہ ضلع ایس پی کے ساتھ نگرانی کریں گے۔ اضلاع میں اگر حالات بگڑیں گے تو اس کیلئے ایس پی اور متعلقہ اے ڈی جی پی کو مل کر پہل کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ ایسے مرحلے میں جبکہ انتخابات سر پر ہیں ، سیاسی فائدہ کیلئے لوگوں کو بھڑکایاجارہاہے اور مذہبی جذبات کو ہوا دی جارہی ہے۔ پولیس کو اس صورتحال سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ شہر بنگلور میں گلابی ہوئسلا گاڑیوں کی تعداد کو 50 سے بڑھاکر 110 کیا جائے گا اور ہر پولیس تھانہ کو ایک گلابی ہوئسلا مہیا کرائی جائے گی، خواتین واطفال پر مظالم کی روک تھام کیلئے ان گاڑیوں کو خصوصی اختیارات دئے جائیں گے۔ 

بلامروت کارروائی:وزیر اعلیٰ نے پولیس افسروں کو تاکید کی کہ نظم وضبط میں خلل پڑنے پر وہ مناسب کارروائی کریں اور سماج میں بدامنی پھیلانے والوں کے مقام اور مرتبے کی پرواہ کئے بغیر ان کے خلاف کارروائی کریں ، بھلے ہی وہ کسی بھی پارٹی سے وابستہ کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کی ترقی اسی وقت ہوسکتی ہے جب نظم وضبط کا نظام زیر قابو رہے۔ نظم وضبط میں اگر خلل پڑا تو ریاست کی ترقی بھی متاثر ہوگی۔انہوں نے افسران سے کہا کہ وہ عوام میں اعتماد پیدا کرنے کیلئے ضروری قدم اٹھائیں۔ بعض اوقات افسران کی لاپرواہی اور بے توجہی محکمہ پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرنے کا سبب بنتی ہے، ہر معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے ورنہ محکمہ کی نیک نامی متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ شہر بنگلور میں کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ ہوجائے تو وہ بین الاقوامی سطح پر سرخیوں کا موضوع بن جاتاہے، اسی لئے یہاں کے حالات کی خاص طور پر نگرانی کی جائے۔ 

محکمۂ پولیس کو سہولت:انہوں نے کہاکہ پولیس فورس کو پوری مستعدی سے کام کرنے میں سہولت مہیا کرانے کیلئے حکومت نے بہت سارے قدم اٹھائے ہیں۔آئندہ بھی اٹھاتی رہے گی۔انہوں نے کہاکہ کسی حکومت نے پولیس جوانوں اور افسران کیلئے بیک وقت اتنی ساری سہولیات کا نفاذ نہیں کیا ہے۔ بارہ ہزار پولیس جوانوں کو بیک وقت ترقی دی گئی، ساتھ ہی عملے کے تقرر ، پولیس والوں کے بچوں کی طبی دیکھ بھال اور تعلیم کی طرف توجہ کے ساتھ انہیں کینٹین کی سہولیات دی گئیں اور ان کے بھتوں میں اضافہ کیاگیا اور بھی جو مسائل ہیں ان کو جلد ہی سلجھانے کی طرف حکومت متوجہ ہے۔ سدرامیا نے کہاکہ کرناٹک ہمیشہ سے امن کا گہوارہ رہا ہے، یہاں کے امن کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کو قطعاً برداشت نہ کیا جائے۔انتخابات تک افسران شرپسندوں کو پوری طرح قابو میں کریں اور حالات کو بگاڑنے کا موقع نہ دیں۔ اس میں اگر کوتاہی برتی گئی تو افسران یا عملے کے خلاف کارروائی کو سدرامیا نے ناگزیر قرار دیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ محکمۂ پولیس میں باربار تبادلوں کے سلسلے کو عنقریب خیر باد کہہ دیاجائے گا۔کسی بھی عہدہ پر افسر کے چارج لینے کے بعد سے کم ازکم دو سال اسے اسی عہدہ پر کام کرنا ہوگا۔ اس موقع پر ڈائرکٹر جنرل آف پولیس آر کے دتہ ، ہوم سکریٹری سبھاش چندرا ، وزیراعلیٰ کے سکریٹری ایل کے عتیق ، وزیر داخلہ کے مشیر کیمپیا وغیرہ موجود تھے۔

ہری شیکھرن کو لتاڑ: منگلور میں حالات بگڑنے اور ان پر جلد قابو نہ پانے پر وزیراعلیٰ سدرامیا نے انسپکٹر جنرل آف پولیس کو میٹنگ کے دوران آڑے ہاتھوں لیا۔ اور سوال کیا کہ دکشن کنڑا میں اتنے سارے واقعات رونما ہوچکے ہیں ان سے نمٹنے اور شرپسندوں کو کچلنے کیلئے پولیس نے کیا اقدام کئے ہیں۔ اس مرحلے میں وضاحت پیش کرنے کیلئے آگے آنے والے ہری شیکھرن کو روکتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ وضاحت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ،بلکہ شرپسندوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور آئندہ ایسا واقعہ رونما نہ ہونے پائے یہ یقینی بنایا جائے۔


Share: