ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / فرانس:تارکین وطن کے کیمپ کے خلاف احتجاج

فرانس:تارکین وطن کے کیمپ کے خلاف احتجاج

Mon, 05 Sep 2016 15:52:06    S.O. News Service

 

پیرس5؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)کیلے کے اس کیمپ میں7000ہزار سے بھی زیادہ پناہ گزین بہت ہی گندی حالت میں رہتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے توبرطانیہ پہنچنے کے لیے لاریوں میں کود جاتے ہیں۔فرانس میں جنگل کے نام سے معروف کیلے کی بندر گاہ کے قریب پناہ گزینوں کے کیمپ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے والے شہر کے ہزاروں لوگ اس کیمپ کو بند کرنے کا مطالبہ کرنے والے ہیں۔مظاہرین کا منصوبہ ہے کہ وہ ایک اہم شاہراہ کو بلاک کریں گے اور بندرگاہ کی طرف جانے والے راستے پر انسانی چین بنا کر رکاوٹیں کھڑی کریں گے۔کیلے کے اس کیمپ میں7000ہزار سے بھی زیادہ پناہ گزین بہت ہی گندی حالت میں رہتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے تو برطانیہ پہنچنے کے لیے گاڑیوں میں کود جاتے ہیں۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس کیمپ کی وجہ سے شہر کی حالت ابتر ہوتی جارہی ہے اور بندرگاہ پر بھی اس سے افرا تفری پھیلتی ہے۔ مقامی افراد کا اس کیمپ کے خلاف یہ پہلا اتنا بڑا مظاہرہ ہوگا۔کیلے شہر کی میئر ناطشہ بوشارٹ کا کہنا ہے کہ اب حالت ناقابل برداشت ہوچکی ہے اور وہ بھی اس مظاہرے میں شرکت کا ارادہ رکھتی ہیں۔اس کیمپ میں مقیم زیادہ تر افراد کا تعلق مشرقی وسطی، افغانستان اور افریقہ سے ہے جو غیر قانونی طریقے سے یہاں پہنچے ہیں اور اب وہ کسی بھی صورت میں انگلش چینل پار کرنا چاہتے ہیں۔چند ماہ پہلے ہی کی بات ہے اس کیمپ کو بند کرنے کی غرض سے حکام نے اس علاقے میں قائم بہت سی جھگیوں کو مسمار کر دیا تھا۔فرانس کے وزیر داخلہ برنارڈکیزنیوا نے اتوار کو کہا کہ حکومت کا اب بھی اس کیمپ کو بند کرنے کا ارادہ ہے۔گذشتہ ہفتے ہی فرانس اور برطانیہ نے مشترکہ طور پر کیلے کی بندرگاہ کی سکیورٹی بہتر کرنے اور وہاں پر رہنے والے ہزاروں بے گھر افراد کی حالت کو بہتر بنانے کاعہدکیا تھا۔اس میں کہا گیا تھا کہ جو افراد پناہ حاصل کرنے کے قابل نہیں ہیں انھیں ان کے ملک واپس بھیجا جائے گا۔چندروز پہلے ہی کارکنان نے کہا تھا کہ انھیں کیمپ سے تقریباََ 400سو ایسے بچے ملے ہیں جن کا دعوے دار کوئی بھی نہیں ہے اور وہ برطانیہ منتقل ہونے کے حقدارہیں۔برطانیہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایسے 150 بچوں کو اسی برس رہائش مہیاکرے گا۔کیمپ میں موجود ایک سوڈانی پناہ گزین نے بی بی سی کو بتایا کہ جس انداز سے مقامی لوگ انھیں دیکھتے ہیں اس سے وہ کافی دکھی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام پناہ گزین جو متنازع علاقوں سے آنے کے بعد یہاں پر جمع ہوئے ہیں وہ اب بس وہ پر امن طریقے سے رہنا چاہتے ہیں۔


Share: