ریاض،29؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)سعودی حکومت نے حج اور عید قربان سے بیرون ملک سے 30لاکھ سے زاید مویشی درآمد کیے ہیں۔ حکومت کی طرف سے جہاں بیرون ملک سے بڑی تعداد میں مویشی منگوائے گئے ہیں وہیں ان جانوروں کی باریک بینی کے ساتھ طبی جانچ پڑتال بھی کی جا رہی ہے۔ جانوروں کے امراض کی تشخیص اور علاج کے لیے جدہ بندرگاہ پر امراض حیوانات کے 45ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم ہمہ وقت جانوروں کی دیکھ بھال میں مصروف ہے۔سعودی عرب کے شعبہ امور زراعت و لائیو اسٹاک کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر خالد بن ناصر الغامدی کا کہنا ہے کہ عید الاضحیٰ پر حجاج کرام کی طرف سے قربانی کے لیے حکومت نے تین ملین قربانی کے جانور بیرون ملک سے درآمد کرنے شروع کیے ہیں۔ تمام جانور جدہ بندرگاہ پر لائے جا رہے ہیں جہاں پر ویٹرنری ماہرین پر مشتمل 45 رکنی ٹیم ان جانوروں کے طبی معائنے میں مصروف ہے۔مکہ مکرمہ میں حیوانی ونباتاتی چھان بین کے شعبے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غالب بن محمد عبدالمغنی الصاعدی نے بتایا کہ رواں موسم حج کے آغاز کے بعد اب تک قربانی کے مویشیوں کی پانچ کھیپوں کا طبی معائنہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کھیپ میں پانچ ہزار جانور ہوتے ہیں۔ ایسے جانور جن میں امراض کی شرح 10فی صد سے زاید پائی گئی انہیں قربانی کے لیے مسترد کر دیا جاتا ہے جب کہ 10فی سے کم امراض کے خطرات والے جانوروں کا علاج کیا جا رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر الصاعدی نے بتایا کہ مکہ مکرمہ میں قربانی کے مویشیوں کے طبی معائنے کے لیے ویٹرنری ڈاکٹروں کے علاوہ دیگر عملے کے 90افراد کام کررہے ہیں۔ یہ تمام ٹیمیں مکہ کے داخلی راستوں الکعکیہ، الشرائع، قدیم الشمیسی، النواریہ اور الھدا پر تعینات ہیں جو شہر میں داخل ہونے سے قبل جانوروں کا مکمل طبی معائنہ کرتے ہیں۔ طبی معائنے کیدوران سیکڑوں جانوروں کو قربانی کے لیے نامناسب قرار دینے کے بعد انہیں شہر سے باہر بھجوایا گیا ہے۔
ڈاکٹر الصاعدی نے کہا کہ ویٹرنری ٹیم 13ذی القعدہ سے 13ذی الحج تک مسلسل تیس دن چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر جانوروں کی دیکھ بحال کی پابند ہے۔ 20افراد کو مکہ مکرمہ میں ان پلیٹ فارمز پرتعینات کیا گیا ہے جہاں سے عازمین حج قربانی کے اپنے جانوروں کے ہمراہ داخل ہوتے ہیں۔ عازمین کے ہمراہ آنے والے جانوروں کا بھی طبی معائنہ کیا جاتا ہے اور ان کی صحت کو یقینی بنائے جانے کے بعد قربان گاہ کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔