نیویارک 27جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)عالمی سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس کے دوران فلسطین میں اسرائیل کی غیرقانونی یہودی آباد کاری کی مذمت کی قراداد ناکام بنا دی گئی۔ گذشتہ شب سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس میں گذشتہ ماہ منظور کی گئی قرارداد 2334کی خلاف ورزی کی مذمت کرنے کی سفارش کی گئی تھی مگر اس موقع پر سلامتی کونسل کوئی اہم فیصلہ کرنے میں ناکام رہی۔اس موقع پراقوام متحدہ کے مندوب برائے مشرق وسطیٰ نیکولائے ملادنیوف نے سلامتی کونسل کے 15ارکان کو بتایا کہ صہیونی حکومت کی طرف سے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں میں 2500نئے مکانات تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان دسمبر 2016ء میں فلسطین میں یہودی آباد کاری کی مذمت منظور کی گئی متفقہ قرارداد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔بند کمرہ اجلاس کے دوران اسرائیل کی جانب سے ایک قرارداد پیش کی گئی تھی۔ یہ قرارداد بولیویا کے تعاون سے پیش کی گئی تھی۔ کونسل کے کسی رکن ملک کی جانب سے قرارداد کی مخالفت میں کوئی اقدام نہیں کیا۔ تاہم سویڈن نے تل ابیب کی قرارداد کی مذمت کا مطالبہ کیا تھا۔سویڈش سفیر اولوف اسکوگ نے کہا کہ عالمی قانون کی خلاف ورزی جس میں قرارداد 2334بھی شامل ہے کے خلاف کوئی بھی قرارداد پیش کی جائیاس کی مذمت ضروری ہے۔اس موقع پر فلسطینی اتھارٹی کے سفیر ریاض منصور نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ کونسل یہلے سے منظور کردہ قراردادوں کا احترام کرے۔ انہوں نے صہیونی ریاست کی طرف سے فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری کے تسلسل کی شدید مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قراردیا۔