بنگلورو،20؍اکتوبر(ایس او نیوز)ریاستی وزیر صحت رمیش کمار نے کہاکہ ریاست کے سرکاری ملازمین اور منتخب نمائندے اگر بیمار ہوجائیں تو ان کیلئے سرکاری اسپتالوں میں علاج کروانا لازمی قرار دیتے ہوئے قانون میں ترمیم لانے پر حکومت سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سرکاری ملازمین اور منتخب نمائندوں کے طبی اخراجات پر ریاستی حکومت سالانہ کروڑوں روپے نجی اسپتالوں کے بل دے رہی ہے۔ اس سلسلہ کو ختم کرنے اور سرکاری اسپتالوں میں علاج لازمی قرار دینے کیلئے حکومت کافی سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ نجی اسپتالوں میں علاج کے نام پر بڑے پیمانے پر دھاندلیاں ہورہی ہیں ۔اس سلسلے کو روکنے کیلئے یہی راستہ ہے کہ تمام سرکاری ملازمین اور منتخب نمائندوں کو سرکاری اسپتالوں میں علاج کروانا لازمی قرار دیا جائے۔ رمیش کمار نے بتایاکہ وزیر اعلیٰ ریلیف فنڈ سے سرکاری ملازمین کے علاج کیلئے 150کروڑ اور منتخب نمائندوں کے علاج کیلئے 50کروڑ روپیوں کی رقم سالانہ خرچ کی جاتی ہے یہ ساری رقم نجی اسپتالوں کو جاتی ہے۔ سرکاری ملازمین اور منتخب نمائندے ہی اگر سرکاری اسپتالوں سے دور رہیں گے تو عوام میں ان اسپتالوں کے تئیں اعتماد کس طرح پیدا کیا جاسکے گا؟۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت اس مقصد سے ایک صحت پالیسی وضع کرنا چاہتی ہے، عنقریب اسے قطعیت دی جائے گی۔ انہوں نے سرکاری ملازمین سے اپیل کی کہ اس سلسلے میں وہ بھی اپنے مشوروں سے نوازیں ۔ تاہم وزیر صحت کی طرف سے سرکاری ملازمین کو سرکاری اسپتالوں میں علاج کروانے کے مشورہ پر ریاست کے سرکاری ملازمین کی انجمن نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہاکہ ہنگامی حالات اور مہلک بیماریاں لے کر اگر سرکاری اسپتالوں سے رجوع کیا جائے تو بیمار ملازمین کو زندہ بچانا مشکل ہوجائے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیر صحت یہ چاہتے ہیں کہ سرکاری ملازمین جلد مرجائیں ، اسی لئے وہ سرکاری اسپتالوں کا رخ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔سرکاری اسپتالوں کو علاج کیلئے اگر جانا ہی ہے تو پہلے ان اسپتالوں کو بہتر بنایا جائے ، اس کے بعد دیکھا جائے گا۔ سرکاری ملازمین کی انجمن کے صدر منجے گوڈا نے وزیر موصوف کے بیان پر شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ پہلی بار وزیر بننے والے رمیش کمار محکمہ کو سدھارنے کے جوش میں اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں جو حقیقت سے بعید ہے۔