ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / روشن بیگ کی بے لوث خدمات دوسروں کیلئے مشعل راہ:غلام نبی آزاد

روشن بیگ کی بے لوث خدمات دوسروں کیلئے مشعل راہ:غلام نبی آزاد

Sun, 14 Aug 2016 21:58:10    S.O. News Service

ملی کاذکیلئے حتی المقدور خدمت جاری رکھوں گا: روشن بیگ
بنگلورو14؍اگست(ایس او نیوز ؍ عبدالحلیم منصور) سینئر کانگریس لیڈر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن قائد غلام نبی آزاد نے آج وزیر شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ کے ہمراہ مضافات شہر ہیگڈے نگر میں تعمیر شدہ حج بھون کا معائنہ کیا۔ اس معائنہ کے دوران انہوں نے شہر کے چنندہ علمائے کرام ، عمائدین اور سیاسی قائدین کے ساتھ مذاکرہ میں حصہ لیا۔اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے غلام نبی آزادنے شہر بنگلور میں خوبصورت ترین حج بھون کی تعمیر کے خواب کے شرمندۂ تعبیر ہونے پر جناب روشن بیگ کو مبارکباد دی ، اور کہاکہ روشن بیگ جیسے قائدین کی خدمات ملک کے دیگر سیاست دانوں کیلئے قابل رشک ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپنی قوم کی نمائندگی کرنے کے عوض جناب روشن بیگ کو وزارت میں جگہ ملی ہے ۔وزارت کی ذمہ داریاں اگر وہ سنبھال کر خاموش رہ جاتے تو بھی وہ وزارت میں اپنا کام کرسکتے ہیں ، لیکن وزارت کی ذمہ داریوں کے ساتھ قوم کے مفادات اور اس کے کاذ کی نمائندگی کو روشن بیگ نے ہمہ وقت اپنائے رکھا۔ ملک کے دیگر مسلم سیاست دان اگر روشن بیگ کی محنت کا 25 فیصد حصہ بھی اپنالیتے تو شاید وہ اپنی اپنی ریاستوں میں اپنی قوم کی نمائندگی کرنے میں کامیاب ثابت ہوتے۔ انہوں نے کہاکہ 1996 میں بنگلور سے راست حج پروازوں کی شروعات سے لے کر اب تک وہ مسلسل بنگلور کے حج کیمپ سے کافی قریبی وابستگی رکھتے ہیں، ہر بار حج کیمپ کے دوران بنگلور آمد کے موقع پر جناب روشن بیگ نے انہیں حج کیمپ میں حاضری اور حجاج کرام سے ملاقات کا موقع فراہم کیا ہے۔ملک کی تمام ریاستوں کیلئے کرناٹک کے حج انتظامات ایک ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر افسوس کہ اس ریاست میں حج بھون سب سے آخر میں تعمیر ہوا ہے، لیکن دیر آید درست آید کے مصداق بنگلور کا احج بھون ملک کے تمام حج گھروں کے مقابل خوبصورت ترین عمارت کی شکل میں تیار ہوا ہے۔اس کیلئے یہاں خدمات سے جڑا ہر فرد مبارکباد کا مستحق ہے۔ غلام نبی آزاد نے کہاکہ حالانکہ وہ حج بھون کا معائنہ 27؍ اگست کو افتتاح کے موقع پر ہی کرنے والے تھے، لیکن وزیر اعلیٰ سدرامیا کے فرزند راکیش سدرامیا کی تعز یت کے سلسلے میں شہر آنے کا موقع جب انہیں ملا تو انہیں بنگلور کے حج بھون کی خوبصورتی کے متعلق جاری چرچوں اور شہرت کی وجہ سے ان سے رہا نہ گیا اور حج بھون کو دیکھنے کے اشتیاق میں جناب روشن بیگ کے ہمراہ یہاں پہنچے ہیں۔ انہوں نے اکثر سیاست دان اپنی قوموں سے ووٹ حاصل کرنے کے بعد اقتدار پر قابض ہوتے ہی انہیں فراموش کردیتے ہیں،لیکن روشن بیگ میں انہوں نے یہ جذبہ دیکھا ہے کہ وہ اقتدار پر رہیں یا نہ رہیں ہمیشہ اپنی قوم کے مسائل کی فکر میں رہتے ہیں۔کسی بھی مسئلے پر قوم کو انصاف دلانے کیلئے وہ ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر مسلمانان بنگلور کی طرف سے کشمیری عوام بالخصوص مسلمانوں کے تئیں جذبۂ ہمدردی پر ممنونیت کااظہار کیا۔ اور کہا کہ 110 سال بعد جب کشمیر میں تباہ کن سیلاب آیا تو اس وقت بھی بنگلور کے لوگوں نے فراخدلی سے کشمیری عوام کی مدد کی۔خاص طور پر جناب روشن بیگ نے قطیر امداد کشمیر کے متاثرین کو اپنی طرف سے روانہ کی۔ جس کیلئے کشمیری عوام کی طرف سے وہ بنگلور کے عوام اور بالخصوص روشن بیگ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔پچھلے 40 دنوں سے کشمیر میں جو نامواقف حالات پیدا ہوئے ہیں۔ان گھڑیوں میں بھی بنگلور کے عوام کی طرف سے کشمیری عوام سے جس ہمدردی کا اظہار کیاجارہاہے اس کیلئے وہ ان کے احسان مند ہیں۔ اس موقع پر جناب روشن بیگ نے مختصراً اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ غلام نبی آزاد کی بدولت ہی 1996 میں پہلی بار بنگلور سے راست حج پرواز ممکن ہو پائی۔ شہر بنگلور میں حج بھون کی تعمیر کے خواب کی تکمیل پر انہوں نے کہا کہ بہت پہلے ہی بنگلور میں حج بھون کی تعمیر ہوجانی چاہئے تھی، لیکن بدقسمتی سے وہ سیاست کا شکار ہوگیا۔اب 20 سال کے عرصہ کے بعد بنگلور میں عالیشان حج گھر تعمیر ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شہر بنگلور کا حج کیمپ سارے ملک کیلئے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتا تھا، یہاں سے انتظامات کا معائنہ کرنے کے بعد دیگر ریاستوں نے انہیں اپنایا اور ان ریاستوں میں مستقل حج گھر تعمیر ہوگئے۔غلام نبی آزاد نے بحیثیت وزیر اعلیٰ کشمیر اپنی ریاست میں حج گھر صرف تیرہ ماہ میں تعمیر کردیا۔مگر افسوس کہ کرناٹک میں یہ تعمیر جلد نہ ہوسکی۔انہوں نے کہاکہ غلام نبی آزاد نے ہر موقع پر ان کی حوصلہ افزائی کی ہے ،اور مشکل گھڑیوں میں بھی ان کا ساتھ دیاہے۔ان کی ہمت افزائی کیلئے وہ غلام نبی آزاد کے ہمیشہ ممنون رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ملت کے کاذ اور مفادات کی حفاظت کیلئے انہوں نے حتی المقدور جدوجہد کی کوشش کی ہے اور ہمیشہ کرتے رہیں گے۔ اس میں اگر ملت کے تمام ذمہ داروں کا ساتھ نہ ہوتا تو شاید ہی کبھی کامیابی مل پاتی۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں بھی ارباب ملت کی طرف سے یہی والہانہ تعاون اور محبتیں ملتی رہیں گی۔اس موقع پر سابق وزراء اے ایم ہنڈسگری ، کے اے نثار احمد، پرسٹیج گروپ کے منیجنگ ڈائرکٹر عرفان رزاق ، آئی ایم اے کے منیجنگ ڈائرکٹر منصور احمد خان ، کے پی سی سی ا قلیتی شعبے کے چیرمین وائی سعید احمد، کانگریس لیڈر اور روزنامہ پاسپان کے مدیراعلیٰ محمد عبید اﷲ شریف، آغاسلطان، اقلیتی کمیشن کی چیرپرسن محترمہ بلقیس بانو، زو اتھارٹی کی چیر پرسن ریحانہ بانو، اردو اکاڈمی چیرمین عزیز اﷲ بیگ، علمائے کرام میں مولانا محمد حنیف افسر عزیزی خطیب وامام مسجد بیوپاریاں، مولانا محمد زین العابدین رشادی ومظاہری مہتمم دارالعلوم شاہ ولی اﷲ ،مولانا مقصود عمران رشادی، خطیب وامام جامع مسجد بنگلور سٹی، الحاق مقبول احمدصدر جامع مسجد بنگلور سٹی، عتیق احمد سکریٹری جامع مسجد بنگلور سٹی،کارپوریٹرس محمد رضوان نواب، محمد ضمیر شاہ، عبدالواجد ، اے آر ذاکر، اجمل بیگ،ارشاد بیگم،کلیم پاشاہ،نوجوان قائد رومان بیگ ،سراج احمد، سید اعجاز احمداور دیگر علماء ، عمائدین اورقائدین موجودتھے۔تقریب کی نظامت محمد اعظم شاہد نے کی۔


Share: