واشنگٹن ،3؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ایرانی اپوزیشن کی جانب سے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع تھا ’’شام میں ایرانی نفوذ اور شیعہ ملیشیاؤں کا کردار‘‘۔ سیمینار میں شریک ماہرین نے اعداد و شمار اور تصاویر کے ذریعے اس ملیشیاؤں کے اس کردار پر روشنی ڈالی جس کو تہران صرف شام میں ہی نہیں بلکہ لبنان، عراق، یمن اور بحرین میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر شمار کرتا ہے۔ادھر ایرانی قومی کونسل برائے مزاحمت نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک جنرل نے ستمبر 2015میں بشار الاسد سے ملاقات کی اور شامی صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپوزیشن کی کامیابیوں کے بعد ملک چھوڑ کر نہ جائے۔کونسل کی رپورٹ کے مطابق تقریبا 70ہزار جنگجو شامی حکومت کے شانہ بشانہ لڑائی میں شریک ہیں۔ ان میں ایرانی پاسداران انقلاب کے 8سے 10ہزار ، ایرانی فوج کے 5سے 6ہزار، شیعہ ملیشیاؤں کے 20ہزار ، حزب اللہ کے 7سے 10ہزار اہل کاروں کے علاوہ ’’فاطمی بریگیڈ‘‘کے نام سے افغان ملیشیاؤں کے 15سے 20ہزار ارکان شامل ہیں۔رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاسداران انقلاب نے شام لڑائی کے لحاظ سے پانچ محاذوں میں تقسیم کیا ہے جو وسطی ، مرکز ، جنوب ، شمال اور ساحل ہیں۔ ایران کے درجنوں اعلی فوجی افسر ان مذکورہ محاذوں پر مارے جا چکے ہیں۔
سیمینار میں شریک ماہرین کے مطابق اگر امریکی انتظامیہ نے یہ سمجھا تھا کہ نیوکلیئر معاہدے سے ایران کا خطے میں توسیع پسندی کا رویہ درست ہو جائے گا ، تو وہ بڑی سادہ لوح ہے۔ ایرانی قیادت کی گواہیوں کے مطابق بشار الاسد کی حکومت کا سقوط تہران کے لیے سرخ لکیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ماہرین نے شامی بحران کے خاتمے کے لیے حل بھی تجویز کیے۔ ان میں فوری طور پر ایرانی مداخلت کو روکنا ، داعش کے خلاف برسرجنگ اتحاد میں ایران کو شامل نہ کرنا، شام میں مسلح اپوزیشن کی سپورٹ اور شہریوں کے لیے ’’بفرزون‘‘کا قیام شامل ہیں۔ماہرین کا اس بات پر اتفاق رہا کہ ایرانی فوجی سپورٹ اور شیعہ ملیشیاؤں کی سپورٹ سے ہی بشار الاسد کی حکومت ابھی تک باقی ہے ، اس کے بعد روس نے بھی اپنے طور کردار ادا کیا۔ پانچ سالوں سے جاری خانہ جنگی میں شام میں لاکھوں افراد کا ہلاک ہونا اور ہجرت کرنا اکیس ویں صدی کا سب سے بڑا انسانی المیہ ہے۔