نئی دہلی،20اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو نے بزرگوں کے تئیں برے برتاؤ کو سماجی برائی بتاتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان نسل کو اس برائی سے دور رکھ کر ملک کے روشن مستقبل کے لئے ہندوستانی ثقافتی وراثت، روایات اور ان کی تاریخ کو نئی تعلیمی پالیسی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔نائیڈو نے اتوار کو ’سینئرسٹیزن اعزاز‘ تقریب میں کانونود کے پاراسرن کو سب سے متنبہ سینئر شہری اعزاز سے نوازتے ہوئے کہاکہ ہندوستانی تہذیب میں اپنے بڑوں کا احترام کا جو سبق ہمیں سکھایا جاتا ہے، ان اقدار پر ہمیں فخر ہے، جس کی وجہ سے ہی سماج میں بزرگوں کو عزت کے ساتھ سب سے اوپر جگہ پر بیٹھایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بزرگ، خاندان کی ساکھ، روایات اور اقدار کے سرپرست ہیں۔موجودہ دور میں یہ کڑی ٹوٹ گئی ہے جسے اس نسل میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔
نائب صدر نے والدین کو اکیلے انہیں کے حال پر چھوڑنے کے نئی نسل میں اضافے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بوڑھوں کے تئیں یہ برتاؤ سماجی برائی ہے اور یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ بزرگوں کو اپنی اولاد کو نظر انداز، جذباتی اور جسمانی استحصال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔نائیڈو نے سماج، خاص طور پر نوجوانوں کی اس سوچ میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو اپنے خاندان کے بوڑھوں کی دیکھ بھال اپنا لازمی ذمہ سمجھ کر کرنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہندوستانی روایات، ثقافت، وراثت اور تاریخ سے منسلک تمام پہلوؤں کو نئی تعلیمی پالیسی میں شامل کئے جانے کی ضرورت ہے جس سے ملک اور نوجوان نسل کو بہتر مستقبل فراہم کیا جا سکے۔