برلن15اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)جرمنی کی داخلی انٹیلیجنس ایجنسی نے انکشاف کیاہے کہ اسے سینکڑوں ایسے واقعات کی رپورٹیں موصول ہوئی ہیں جن میں مسلمان انتہا پسندوں نے مہاجر کیمپوں میں پناہ گزینوں کو ورغلانے اور اپنے گروپوں میں بھرتی کرنے کی کوشش کی ہے۔جرمنی کے وفاقی دفتر برائے تحفظِ آئین کے سربراہ ہنس گیورگ ماسین نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایاکہ ہمیں اب تک اس سلسلے میں 340 واقعات کی رپورٹیں موصول ہو چکی ہیں۔ تاہم یہ تعداد صرف ان کیسوں کی ہے جن کی حکام کو اطلاع ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تعداد اور بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ ماسین نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں قائم مہاجرین کی رہائش گاہوں اور کیمپوں میں خدمات انجام دینے والے رضاکاروں کو اس بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔جرمنی کی داخلی انٹیلیجنس ایجنسی کے ایک محتاط اندازے کے مطابق شدت پسندانہ مسلم سوچ کے حامل افراد کی تعداد ملکی سطح پر تقریباً تینتالیس ہزار ہے اور اس تعداد میں گزشتہ چند برسوں کے دوران بدستور اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ داخلی سلامتی کی نگران اور دیگر ایجنسیوں کے حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان میں سے قریب گیارہ ہزار افراد دہشت گردانہ رجحانات کے حامل ہیں۔ مزید یہ کہ ان گیارہ ہزار افراد میں سے صرف پانچ سو کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردانہ کارروائی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں جرمنی سے تقریباً آٹھ سو انتہا پسندوں نے لڑائی میں شمولیت کے لیے شام اور عراق کا رخ کیا اور کئی نے وہاں جا کر مشرق وسطیٰ میں سرگرم دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ میں شمولیت اختیار کر لی۔ شام اور عراق جانے والوں کی ایک تہائی تعداد واپس جرمنی بھی آ چکی ہے۔اسی دوران سلفی اسلام کے حامیوں کی تعداد میں پچھلے چند برسوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ اس تحریک کے حامیوں کی موجودہ تعداد 8,650 ہے۔ وفاقی دفتر برائے تحفظِ آئین کے سربراہ نے کہا کہ یہ بات قابل فکر ہے کہ سلفی مسلمان مہاجر کیمپوں میں اپنی مہم چلا رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا، ہم اس بات سے واقف ہیں کہ پناہ گزینوں کی صفوں میں کافی زیادہ سنی مسلمان شامل ہیں۔ یہ لوگ عموماً خاصے قدامت پسند پس منظر کے حامل ہوتے ہیں اور جمعے کے جمعے کسی عرب مسجد میں جا کر نماز ادا کرنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ مازین نے یہ بھی بتایا کہ جرمنی میں انتہا پسند سلفی مسلمانوں کے زیر انتظام کئی مساجد چل رہی ہیں۔
ڈی پی اے سے بات چیت کے دوران جرمنی کے وفاقی دفتر برائے تحفظِ آئین کے سربراہ ہنس گیورگ ماسین نے کہا کہ جن مساجد میں عربی زبان بولی جاتی ہیں، انہیں ریگولیٹ نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست اس معاملے میں زیادہ کچھ نہیں کر سکتی۔ ماسین کے بقول جرمنی میں گزشتہ ماہ ہونے والے چند حملوں سے قبل بھی اسلامی انتہا پسندی سے متاثرہ حملے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ہینوور میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت اور ایسن میں ایک سکھ گردوارے پر حملے کی مثالیں دی۔ہنس گیورگ ماسین نے کہا کہ سبق یہ سیکھنا چاہیے کہ تمام تر توجہ صرف اس طرف نہ دی جائے کہ اسلامک اسٹیٹ اپنے دہشت گرد یورپ روانہ کر سکتی ہے یا کر رہی ہے بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ جو لوگ ان ملکوں میں ہی انتہا پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہیں، انہیں بھی دہشت گردانہ حملوں پر مائل کیا جا سکتا ہے۔