نئی دہلی، 27/جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اپنے بے باک بیانات کو لے کر سرخیوں میں رہنے والے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم)کے لیڈر اور ممبر آف پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بابری مسجد کی شہادت کے معاملہ کے ملزم مرلی منوہر جوشی کو پدم ویبھوشن ایوارڈ سے نوازنے پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جوشی کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے اور وہ بابری مسجد شہادت معاملہ میں ملزم ہیں، ایسے میں انہیں یہ ایوارڈ دینا بالکل غلط ہے۔ انہوں نے جوشی کو اس اہم اعزاز سے نوازنے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔
اویسی صاحب نے جلی کٹو سے لے کر قومی ایکتا دل کے بی ایس پی میں انضمام کے مسئلے پر بات کی۔اتنا ہی نہیں اویسی نے جلی کٹو کے ساتھ ہی تین طلاق کا مسئلہ بھی اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ جلی کٹو کے حامیوں سے مسلمانوں کو سبق لینے کی ضرورت ہے۔
میڈیا سے خصوصی بات چیت میں اسد الدین اویسی نے کہا کہ آئین کی دفعہ 29 ہرایک کو اپنی روایات کے تحفظ کی اجازت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح سے جلی کٹو کی حمایت میں لوگ سامنے آ رہے ہیں،اسی طرح سے ہر کسی کو اپنی تہذیب کی حفاظت کرنے کا حق حاصل ہے۔اویسی نے کہا کہ تمل ناڈو کی عوام نے مودی حکومت کو بتا دیا ہے کہ اس ملک میں ایک کلچر نہیں چلے گا۔انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو کی عوام نے یکجہتی کی ایک اچھی مثال پیش کی ہے، ہندوستان میں ایک نہیں بلکہ کئی تہذیبیں ہیں۔ اویسی نے کہا کہ جس طرح سے جلی کٹو کے لیے تمل ناڈو کے لوگوں نے آواز اٹھائی ہے، ویسے ہی ہمیں بھی تین طلاق کے مسئلے پر آواز اٹھانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی نہیں بتائے گا کہ ہم شادی کیسے کریں اور طلاق کس طرح دیں؟ہم اپنی روایت کے مطابق یہ سب کریں گے۔
مودی حکومت پر حملہ بولتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ’سب کا ساتھ،سب کا وکاس‘کی بات کرنے والی مودی حکومت سب کو ہندوتو رنگ میں رنگنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی ایکتا دل کا بی ایس پی میں انضمام کوئی بڑی بات نہیں ہے، مزید کہا ہر پارٹی میں مجرم شبیہ والے لیڈر پائے جاتے ہیں۔باقی پارٹیوں میں بھی مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنے والے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، لیکن بی ایس پی کو اس پر جواب دینا چاہیے۔