لکھنؤ،27/جنوری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اس وقت پانچ ریاستوں میں انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہو چکا ہے، ساتھ ہی انتخابی ضابطہ اخلاق بھی نافذ ہو چکا ہے۔جن ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں ان میں یوپی، منی پور، پنجاب، اتراکھنڈ اور گوا شامل ہیں۔ان سبھی پانچ ریاستوں کے انتخابات میں سب سے زیادہ اہمیت یوپی کے اسمبلی انتخابات کو دی جا رہی ہے جہاں سات مراحل میں انتخابات ہونے والے ہیں اور اس کا آغاز 11/فروری سے ہونے والا ہے۔جہاں ایک طرف ملک انتخابی ماحول میں ڈوبا ہوا ہے وہیں یکم فروری کو عام بجٹ پیش کیا جائے گا اور اسے لے کر کئی طرح کے سوالات کھڑے کئے جا رہے ہیں۔اس سال حکومت نے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ یکم فروری طے کر رکھی تھی اور الیکشن کمیشن نے اسی درمیان پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر دیا، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور بجٹ کی تاریخ کی مخالفت ہونے لگی۔جس کے بعد یہ معاملہ الیکشن کمیشن کی دہلیز تک پہنچ گیا اور اپوزیشن پارٹیوں نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی کہ وہ حکومت کو بجٹ کی تاریخ بڑھانے کی ہدایت دے، لیکن الیکشن کمیشن نے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ یکم فروری کو عام بجٹ پیش کریں، لیکن کسی بھی قسم کے لبھانے والے وعدوں سے گریز کریں، تاکہ انتخابات پر اس کا اثر نہ پڑے۔اسی درمیان یوپی کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت انتخابات سے پہلے عام بجٹ پیش کرے گی، تو اس کا اثر یوپی کی عوام پر پڑ سکتا ہے کیونکہ حکومت ایک حد کے اندر رہ کر ہی بجٹ پیش کر پائے گی۔اس کو لے کر یوپی کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے وزیر اعظم مودی کو ایک نیا مکتوب لکھا ہے۔اکھلیش یادو نے مودی کو لکھاکہ آئندہ بجٹ میں انتخابی ریاستوں کے مفاد میں کوئی خصوصی منصوبوں کا اعلان نہ کیا جائے۔ایسے میں یہ غالب امکان ہے کہ اتر پردیش جس میں کہ ملک کی سب سے بڑی آبادی رہتی ہے، کو حکومت ہند کے آئندہ عام،ریل بجٹ میں کوئی خصوصی فائدہ یا منصوبہ حاصل نہیں ہو سکے گا، جس کا براہ راست منفی اثراتر پردیش کے ترقیاتی کاموں اور یہاں کی 20کروڑ عوام کے مفادات پر پڑے گا۔حالانکہ حکومت نے عام بجٹ پیش کرنے کا پورا ذہن بنا لیا ہے اور اب ایسے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ مرکزی حکومت کا بجٹ کیسا ہوتا ہے۔