لندن 2اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)امریکا کی وینزویلا پر مکمل پابندیوں کے بعد یورپی یونین بھی اس ملک پر نئی پابندیاں عائد کر چکی ہے۔ لیکن جن اقدامات کا مقصد صدر مادورو کو اقتدار سے باہر کرنا تھا، ان کے نتیجے میں اب تک چالیس ہزار انسان ہلاک ہو چکے ہیں۔وینزویلا کا المیہ یہ ہے کہ امریکا اور یورپی یونین نے جن پابندیوں کے ساتھ اس ملک کے صدر نکولاس مادورو کو اقتدار سے علیحدہ ہونے پر مجبور کر دینے کا سوچا تھا، ان کا نشانہ عوام بن رہے ہیں۔ کارولینا سْوبیرو اپنی والدہ، بہن اور تین بچوں کے ساتھ وینزویلا کے دارالحکومت کراکس کی ایک غریب آبادی میں کچی اینٹوں کے بنے صرف دو بیڈ روم کے ایک چھوٹے سے گھر میں رہتی ہیں۔کارولینا کی سب سے چھوٹی بیٹی کی عمر پانچ سال ہے، جو مرگی کی مریضہ ہے اور اسے باقاعدگی سے ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن کارولینا اپنی اس بیٹی کے لیے ادویات حاصل کر ہی نہیں سکتیں۔کارولینا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''میری اس بیٹی کو روز دورے پڑتے ہیں۔ اگر اسے ادویات دستیاب ہوں، تو ان دوروں کی شدت بہت زیادہ نہیں ہوتی۔ لیکن ہم چونکہ اس کے لیے دوائیاں حاصل نہیں کر سکتے، اس لیے اب ڈاکٹر اسے ہسپتال بھیج دیں گے۔ یہ چھوٹی سی بچی پہلے ہر روز چار مختلف اقسام کی ادویات استعمال کرتی تھی۔ لیکن امریکی پابندیوں کی وجہ سے اب بہت سی ضروری ادویات وینزویلا میں درآمد نہیں کی جا سکتیں۔ اب اس بچی کو اس کی کل چار میں سے صرف ایک دوائی دستیاب ہوتی ہے اور وہ بھی کبھی کبھی، جو کہ انتہائی مہنگی بھی ہو چکی ہے۔کارولینا کی جنجرلیس نامی بیٹی کے لیے اس ایک دوائی کی ایک پیکنگ صرف دس دن کے لیے کافی ہوتی ہے۔ اس کی قیمت تقریبا? آٹھ امریکی ڈالر یا 7.3 یورو کے برابر ہوتی ہے۔ بظاہر یہ کوئی زیادہ قیمت نہیں ہے۔ لیکن وینزویلا میں، جسے اپنی کرنسی بولیوار کی شرح تبادلہ میں حیران کن حد تک کمی کا سامنا ہے، یہ بہت بڑی قیمت ہے۔