ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / افغان مہاجرین کا دوسرا گروپ بھی جرمنی بدر کر دیا گیا

افغان مہاجرین کا دوسرا گروپ بھی جرمنی بدر کر دیا گیا

Tue, 24 Jan 2017 20:35:10    S.O. News Service

کابل24جنوری(ایس  اونیوز/آئی این ایس انڈیا)سیاسی پناہ کے ناکام درخواست گزار افغان تارکین وطن کا دوسرا گروپ بھی جرمنی سے کابل بھیج دیا گیا ہے۔ منگل کے روز ان تارکین وطن کو جبری طور پر بذریعہ ہوائی جہاز جرمنی بدر کیا گیا۔پیر تئیس جنوری کے روز ان تارکین وطن کو جبری طور پر ان کی قیام گاہوں سے حراست میں لیا گیا اور ایک خصوصی طیارے کے ذریعے کابل پہنچا دیا گیا۔ کابل اور برلن حکومتوں کے درمیان گزشتہ برس اکتوبر میں طے پانے والے معاہدے کے تحت ناکام درخواست گزار افغان باشندوں کو واپس افغانستان بھیجاجاسکتا ہے اور کابل حکومت کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ انہیں قبول کرے۔عرش الوکزئی نامی 20سالہ تارک وطن نے کابل پہنچنے پر بتایا، صبح کے چار بجے تھے۔ میں سو رہا تھا، جب پولیس نے مجھے اٹھایا اور اپنے ساتھ لے گئی۔عرش نے جرمنی میں پانچ برس گزارے۔ عرش نے افغانستان ایک بہتر مستقبل کے لیے چھوڑا تھا، کیوں کہ وہاں اسے ملازمت دستیاب نہیں تھی۔ اب مجھے معلوم نہیں میں یہاں کیا کروں گا۔دسمبر کے وسط میں بھی 34 افغان مہاجرین کو جرمنی سے ملک بدر کر کے واپس افغانستان پہنچا دیا گیا تھا۔افغان وزارت برائے مہاجرین کے مطابق گزشتہ برس تقریباََ 10ہزار افغان باشندے مختلف ممالک سے رضاکارانہ طور پر افغانستان واپس آئے ہیں، جن میں سے تین ہزار جرمنی سے وطن واپس لوٹے ہیں۔جرمن وزیر داخلہ تھوماس دے میزیئر نے اکتوبر میں کہا تھا کہ اس طرح کی ملک بدریاں افغانوں کو یہ واضح پیغام ہیں کہ جرمنی افغانستان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی قلیل تعداد ہی قبول کرے گا۔سن 2015ء میں جرمنی نے قریب نو لاکھ مہاجرین کو اپنے ہاں قبول کیا تھا، تاہم اس سے ایک طرف تو جرمنی میں عوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے، جب کہ دوسری طرف داخلی سلامتی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس تمام صورت حال کا فائدہ انتہائی دائیں بازو کی سیاسی تحریکوں کو پہنچا ہے، جو اپنی مقبولیت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔ انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹیو فار جرمنی نے اسی تناظر میں مختلف صوبائی انتخابات میں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ نشتیں حاصل کی ہیں اورخدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ جرمنی میں رواں برس ہونے والے قومی انتخابات میں بھی یہ جماعت نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں۔


Share: