بنگلورو، 5؍جولائی(ایس او نیوز)طلبا کی طرف سے امتحانات میں ناقص مظاہرہ سے پریشان ریاستی محکمۂ تعلیمات نے اساتذہ کو متنبہ کیا ہے کہ کام کے اوقات میں وہ کسی بھی حال میں موبائل فون کا استعمال نہ کریں ، ساتھ ہی خاتون لکچرارس کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ لباس کا ضابطہ اپناتے ہوئے کالج کے اوقات میں صرف روایتی لباس ساڑیاں ہی پہن کر کالج آئیں۔ اس سلسلے میں محکمہ کی طرف سے جاری سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ایڈڈ اور ان ایڈڈ کالجوں کے اساتذہ سمیت تمام زمروں کے اساتذہ پر کام کے اوقات میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اکثردیکھا گیا ہے کہ اساتذہ طلبا کو پڑھانے کی بجائے اپنے موبائل فون پر بات چیت یا پھر سوشیل میڈیا دیکھنے میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔اس سلسلے میں متعدد شکایات کی موصولی کے بعد محکمہ نے یہ پہل کی ہے۔ پچھلی بی جے پی حکومت میں اس وقت کے وزیر تعلیمات وشویشور ہیگڈے کاگیری نے بھی ایسا ہی ضابطہ لاگو کیا تھا،لیکن افسران نے اسے سختی سے لاگو نہیں کیا۔ محکمہ نے اب اسکولوں اور کالجوں کے اوقات میں موبائل فون کے استعمال پر سختی سے پابندی لگانے کی پہل کی ہے۔ بنگلور کے ڈپٹی ڈائرکٹر برائے تعلیمات عامہ بی ایم اشوتھ نارائن گوڈا نے بتایا کہ محکمہ کی طرف سے خفیہ طور پر بھی موبائل استعمال کرنے والے اساتذہ پر نظر رکھی جائے گی، اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ محکمہ نے کہاکہ اساتذہ کی طرف سے موبائل فون استعمال کئے جانے سے اسکول کا ماحول خراب ہورہا ہے، خاص طور پر تعلیمی اوقات میں اسمارٹ فون کے استعمال کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں نہ صرف متاثر ہورہی ہیں ،بلکہ طلبا بھی اس طرح فون استعمال کرنے کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ کالج اور اسکولوں کے پرنسپلوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکول کے اوقات میں اگر اساتذہ کو موبائل فون استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا تو اس کیلئے متعلقہ پرنسپل کو بھی ذمہ دار قرار دیا جائے گا اور ان پر بھی کارروائی کی جائے گی۔