بنگلورو۔18؍جولائی(ایس او نیوز) میڈیکل اور ڈینٹل کورسوں میں داخلوں کے لئے اس مرتبہ ملک بھر میں نیٹ (NEET) منعقد کیاگیا ابھی آل انڈیا کوٹے یا ریاست کرناٹک کے کوٹے میں سیٹوں کا الاٹمنٹ نہیں ہوا ہے۔ دستاویزات کی جانچ پڑتال کے لئے پچھلے تین دنوں سے کرناٹکا ایکزامنیشن اتھارٹی( کے ای اے) کے دفتر پر طلباء اور ان کے والدین یا سرپرستوں کی کافی بھیڑ بھاڑ دیکھی گئی۔ یہ بھیڑ اس لئے زیادہ ہے کیونکہ اکثر شمالی کرناٹک کے طلبا بھی اپنے دستاویزات کی جانچ بنگلور ہی میں کروارہے ہیں۔ میڈیکل اور ڈینٹل کورسوں میں داخلہ کے خواہشمند طلباء جن کا تعلق اقلیتی طبقات سے ہے اور ریاست کرناٹک میں مقیم ہیں تو انہیں میڈیکل یا ڈینٹل کی سیٹ الاٹ ہونے پر کرناٹکا مائنارٹیز ڈیولپمنٹ کارپوریشن( کے ایم ڈی سی) کی جانب سے ادیوواسکیم کے تحت تعلیمی قرضہ دیا جائے گا۔ میڈیکل یا ڈینٹل کورس کے لئے منتخب ہونے والے طلباء کی پوری فیس کے ایم ڈی سی کی جانب سے اداکی جائے گی۔ کے ایم ڈی سی کے چیرمین ایم اے غفور سے آج یہاں ایک ملاقات کے دوران انہوں نے کارپوریشن کی مختلف اسکیموں پر روشنی ڈالتے ہوئے نمائندہ سالار کو بتایا کہ کئی طلباء کو یہ غلط فہمی ہے کہ اگر میڈیکل یا ڈینٹل کورس کی سیٹ سرکاری کالجوں میں ملے اور سالانہ فیس77ہزار روپئے ہوتو یہ فیس کے ایم ڈی سی کی جانب سے اداکی جائے گی۔ ایسا نہیں ہے سرکاری میڈیکل کالجوں میں محدود سیٹیں ہیں، اس سال سے میڈیکل اور ڈینٹل کورسوں میں داخلہ کے لئے نیٹ میں کامیابی ضروری ہے۔ رینک کی بنیاد پر پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں بھی گورنمنٹ کوٹہ ہی میں امیدواروں کو میڈیکل کے سیٹیں الاٹ کی جائیں گی جس کے لئے سالانہ6لاکھ30ہزار روپئے فیس مقرر ہے۔ ان طلباء کی فیس بھی اریوواسکیم کے تحت کے ایم ڈی سی کے ای اے کو اداکرنے کے لئے تیار ہے۔ اس کے لئے خواہشمند طلباء کو آن لائن درخواست بھرنی پڑے گی اور متعلقہ دستاویزات اپ لوڈ کرنے کے علاوہ اس کی نقل کا ایک سٹ کے ایم ڈی سی کے متعلقہ ضلع کے دفتر میں جمع کرنا ہوگا۔ مسٹر غفور نے بتایا کہ نیٹ یا سی ای ٹی کے علاوہ مینجمنٹ کوٹہ میں داخلہ لینے والے طلباء بھی اگر اریوواسکیم کے تحت عرضی داخل کریں تو انہیں بھی کے ایم ڈی سی کی جانب سے تعلیمی قرضہ دیا جائے گا۔ جس پر صفر فیصد سود اور سبسیڈی بھی ہے ۔ یہ فیس کورس مکمل ہونے تک دی جائے گی، دوسرے سال صرف دوفیصد سرویس چارجس عرضی گزار سے کارپوریشن لے گا۔انہوں نے بتایا کہ پیشہ وارانہ کورسوں کے علاوہ ڈگری کورسوں ایم فل، بیرونی ممالک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھی کارپوریشن قرضہ فراہم کرے گا۔زرعی اور تجارتی قرضے: مسٹر غفور نے بتایا کہ کارپوریشن نے دونئی اسکیمیں شروع کی ہیں جس کے تحت اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے کسانوں کے لئے ٹلریا دیگر زرعی الات خریدنے کے لئے ایک لاکھ روپئے تک کا قرضہ دیا جاتا ہے جس میں50فیصد سبسیڈی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اقلیتی بالخصوص مسلمانوں کو بدنام کیا جاتا ہے کہ وہ گائے ذبح کرنے والے ہیں یہ باکل غلط ہے ہم بھی گائے پالتے ہیں، کارپوریشن مویسی پالن اسکیم کے تحت گائے ،بکرے، بکریاں، مرغیاں وغیرہ پالنے کے لئے40ہزار روپئے قرضہ دے گا جس میں20ہزار یعنی50فیصد سبسیڈی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قدرتی آفات،فرقہ وارانہ فسادات میں مکان یا دکان تباہ ہوجانے اور کسی جرم میں جیل کی سزا کاٹ کر واپس لوٹ آنے پر کام کاج نہ ملنے والے اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کو مکان دکان تعمیر یا مرمت کرنے کی اسکیم کے تحت صفر فیصد سود پر 5لاکھ روپئے قرضہ دیا جائیگا۔ جس میں2؍لاکھ روپئے سبسیڈی ہے۔ اس کے علاوہ جائیداد گروی رکھنے پر کاروباریا چھوٹی صنعتوں کے لئے10؍لاکھ روپئے قرضہ این ایم ڈی سی کی اسکیم کے تحت دیا جائے گا۔ خود کاروزگار شروع کرنے پیشہ وارانہ افراد کے لئے کلنک وغیرہ کھولنے کے لئے بھی قرضہ یا جائے گا۔ جس میں33؍فیصد رقم سبسیڈی ہے۔ اگر کسی ڈرائیور کے پاس ڈرائیونگ لائسنس اور پبلک ٹرانسپورٹ بیاڈج ہے توٹیکسی یا گورڈس گاڑی خریدنے کے لئے دس لاکھ روپئے تک قرضہ دیا جائیگا۔ جس میں تین لاکھ روپئے سبسیڈی ہے اس اسکیم کے تحت عرضی داخل کرنے کی آخری تاریخ 31؍جولائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیمی قرضہ کے لئے آن لائن درخواست داخل کرنے کے لئے ابھی وقت ہے۔ انجینئرنگ ،میڈیکل اور ڈینٹل کورسوں میں داخلے کے خواہشمند کے ایم ڈی سی کے ویب سائٹ پر کلک کرکے تفصیلات معلوم کرنے کے بعد آن لائن عرضیاں داخل کرسکتے ہیں۔