نئی دہلی، 31/دسمبر (ایس او نیوز/ایجنسی )سال 2024 اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، اور یہ سال کئی یادوں کے ساتھ ہمیں چھوڑ رہا ہے۔ ان یادوں میں جہاں کچھ خوشگوار لمحے ہیں، وہیں کئی تلخ تجربات بھی شامل ہیں۔ 2024 ہندوستان اور دنیا بھر کے لیے قدرتی آفات کے لحاظ سے ایک چیلنجنگ سال رہا۔ یہ سال تاریخ کا سب سے گرم سال قرار دیا گیا، جس کی وجہ سے ماحولیاتی توازن شدید متاثر ہوا۔ ہندوستان میں کئی ریاستوں کو قدرتی آفات جیسے سیلاب، طوفان، اور لینڈ سلائڈز کا سامنا کرنا پڑا۔ وائناڈ میں پیش آنے والے شدید لینڈ سلائڈ کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ ان آفات نے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں ہزاروں زندگیوں کا خاتمہ کیا۔ آئیے، 2024 میں ہونے والی چند بڑی قدرتی آفات پر ایک نظر ڈالیں۔
1. دنیا کے کئی ممالک پر قدرتی آفات نے برپایا قہر:ہندوستان میں آنے والی قدرتی آفات کے بارے میں بات کرنے سے قبل دنیا کے چند اہم ممالک کا مختصر طور پر ذکر کیا جا رہا ہے۔ اٹلی اور جنوبی امریکہ میں لوگوں کو خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ نیپال، سوڈان اور یورپ میں سیلاب نے خاصی تباہی مچائی۔ میکسیکو، مالی اور سعودی عرب میں ہیٹ ویو سے ہزاروں افراد کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ امریکہ اور فلپائن جیسے ممالک میں تباہ کن طوفان ’سائکلون‘ نے تباہی مچائی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے مستقبل میں ایسے واقعات مزید سنگین شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
2. تاریخ کا سب سے گرم سال:یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس (سی3ایس) نے ایک چونکانے والا انکشاف کیا تھا۔ اس کے مطابق 2024 تاریخ کا سب سے گرم سال رہا۔ جنوری سے نومبر تک اوسط درجہ حرارت پری-انڈسٹریل دور (1850-1900) کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سیلسیس زیادہ تھا۔ واضح ہو کہ اس سے قبل 2023 کو سب سے گرم سال کے طور پر درج کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ بڑھتی گرمی انسانوں کی وجہ سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کا براہ راست نتیجہ ہے۔
3. سیلاب سے متاثر آندھرا پردیش کا وجئے واڑہ:شدید بارش اور ندیوں میں آئی طغیانی کی وجہ سے وجئے واڑہ میں زبردست سیلاب آیا جس میں 40 سے زائد لوگوں نے اپنی جانیں گنوا دیں۔ اس خطرناک سیلاب کی وجہ سے تقریباً 3 لاکھ لوگ بُری طرح متاثر ہوئے تھے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق 31 اگست سے 9 ستمبر تک سیلاب نے تباہی مچائی تھی۔ واضح ہو کہ بوڈامیرو اور کرشنا ندی کی آبی سطح میں اضافہ کی وجہ سے نشیبی علاقوں میں پانی بھر گیا تھا۔ امدادی ٹیم کے ذریعے تقریباً 44000 بے گھر افراد کو راحتی کیمپ میں بحفاظت بھیجا گیا۔
4. سمندری طوفان ’ریمل‘ نے مچائی تباہی:طوفان ’ریمل‘ 26 مئی کو مغربی بنگال اور بنگلہ دیش کے سُندربن ڈیلٹا علاقے میں آیا تھا۔ اس طوفان نے بنگال، میزورم، آسام اور میگھالیہ میں تقریباً 30 سے زائد لوگوں کی زندگی چھین لی۔ طوفان کی وجہ سے چاروں طرف تباہی ہی تباہی کا نظارہ دیکھنے کو ملا۔
5. وائناڈلینڈ سلائڈنگ:کیرالہ کے وائناڈ میں 30 جولائی کو ہوئے لینڈ سلائڈ میں 300 سے زیادہ لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ دراصل وائناڈ کے میپّاڈی کے پاس مختلف پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائڈ کی وجہ سے یہ المناک حادثہ پیش آیا تھا۔ وائناڈ ضلع کے منڈکّئی، چورلمالا اور ملپّورم ضلع کے نیلامبور جنگلاتی علاقوں میں لینڈ سلائڈ ہوا تھا۔ اس خطرناک لینڈ سلائڈ میں 1500 سے زائد گھر نیست و نابود ہو گئے اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے۔
6. ہماچل پردیش میں 2 ماہ کے اندر 51 مرتبہ پھٹا بادل:جون سے اگست تک ہماچل پردیش میں 51 مرتبہ بادل پھٹنے کے واقعات پیش آئے۔ اس وجہ سے سیلاب جیسے حالات پیدا ہو گئے۔ اس قدرتی آفت میں کم از کم 30 لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں اور دیگر کئی لوگ لاپتہ ہو گئے۔ اس حادثہ سے ہماچل پردیش کے لاہول اسپیتی جیسے علاقوں میں خاصی تباہی ہوئی۔ اس قدرتی آفت نے 121 مکانات کو پورے طور پر ملبہ کی ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ اتنا ہی نہیں، 35 لینڈ سلائڈ کے واقعات بھی پیش آئے۔ اس قدرتی آفت کی وجہ سے ریاست کو تقریباً 1140 کروڑ روپے کا خسارہ ہوا۔
7. طوفان ’فینگل‘:30 نومبر کو طوفان ’فینگل‘ نے پڈوچیری کے پاس دستک دی جس سے کم از کم 19 لوگوں کی موت ہو گئی۔ کئی دیگر افراد بھی اس سے متاثر ہوئے۔ طوفان کی وجہ سے پڈوچیری میں 46 سینٹی میٹر کی ریکارڈ توڑ بارش ہوئی جس سے سڑک و کھیت وغیرہ پوری طرح پانی میں ڈوب گئے۔ طوفان کی وجہ سے تمل ناڈو کے کئی اضلاع میں فصلوں کو بھاری نقصان پہنچا۔ طوفان ’فینگل‘ کا اثر پڈوچیری کے ساتھ ساتھ مہاراشٹر میں بھی دیکھا گیا۔
8. سیلاب سے بے حال ہوا آسام:رواں سال شمال مشرقی ہندوستان میں بھی شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے حالات کافی بدتر تھے۔ دور دور تک تاحد نگاہ پانی ہی پانی نظر آ رہا تھا۔ یہاں یہ فرق کرنا مشکل تھا کہ دریا کا دوسرا کنارہ کہاں ہے اور گاؤں کی سرحد کہاں ہے۔ سڑکیں، راستے اور فٹ پاتھ سب سیلاب میں ڈوب گئے تھے۔ رواں سال آسام میں شدید سیلاب کی وجہ سے 117 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ 21 لاکھ سے زیادہ لوگوں کے متاثر ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی شمال مشرقی ریاست کو برہم پترا ندی کے قہر کا سامنا کرنا پڑا تھا۔