نئی دہلی، 29 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی) ڈیجیٹل پیمنٹ کرنے والوں کے لیے بڑی خبر! اب ہر بار UPI ٹرانزیکشن کے لیے PIN ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) جلد ہی بایومیٹرک آتھنٹیکیشن یعنی فنگر پرنٹ یا فیس آئی ڈی کے ذریعے UPI پیمنٹ کا نیا سسٹم لانچ کرنے جا رہی ہے۔ اس نئے سسٹم کے بعد UPI پیمنٹ نہ صرف زیادہ آسان اور تیز ہوگا بلکہ سکیورٹی کے لحاظ سے بھی مضبوط ہو جائے گا۔ فنگر پرنٹ یا چہرے کی شناخت کے ذریعے اب براہ راست پیمنٹ ممکن ہوگا، بالکل ویسے جیسے فون ان لاک کرتے ہیں۔
اس ٹیکنالوجی میں فنگر پرنٹ یا فیس آئی ڈی کو صارف کی شناخت کے طور پر استعمال کیا جائے گا، یعنی نہ کوئی پاسورڈ یاد رکھنے کی ضرورت، نہ PIN ڈالنے کی جھنجھٹ۔ چونکہ فنگر پرنٹ یا فیس آئی ڈی کو کاپی کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے، اس لیے یہ سسٹم زیادہ محفوظ تصور کیا جا رہا ہے۔ فی الحال اس نئی سہولت پر کام جاری ہے اور آئندہ چند مہینوں میں اس کا پائلٹ ورژن شروع ہونے کا امکان ہے۔ ابتدائی طور پر یہ فیچر چند منتخب UPI ایپس جیسے گوگل پے، فون پے اور پے ٹی ایم پر مخصوص صارفین کے لیے دستیاب ہوگا، بعد میں اسے تمام صارفین کے لیے جاری کیا جائے گا۔
اس سسٹم کے ذریعے نہ صرف فراڈ کے امکانات میں کمی آئے گی بلکہ بزرگوں جیسے صارفین کے لیے بھی UPI کا استعمال آسان ہو جائے گا، جنہیں PIN یاد رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانزیکشن کا عمل بھی تیز ہو جائے گا کیونکہ فنگر پرنٹ لگتے ہی پیمنٹ مکمل ہو جائے گا۔ NPCI کے مطابق تمام بایومیٹرک ڈیٹا انکرپٹڈ فارمیٹ میں محفوظ کیا جائے گا تاکہ صارفین کی پرائیویسی محفوظ رہے۔ تاہم، ماہرین کے مطابق اس نظام پر سخت نگرانی اور واضح پروٹوکول کی ضرورت ہوگی تاکہ عوام کا اعتماد قائم رہے۔
ابتدائی مرحلے کے بعد یہ فیچر تمام UPI پلیٹ فارمز پر دستیاب کرایا جائے گا۔ اس نئے قدم سے ڈیجیٹل پیمنٹ کا مستقبل مزید آسان، تیز اور محفوظ ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔