ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / امید پورٹل کی سست رفتاری سے رجسٹریشن متاثر؛ کرن رجیجو نے دی تین ماہ کی مہلت، کہا: تاخیر پر نہیں ہوگی سخت کارروائی اور نہ ہی جرمانہ

امید پورٹل کی سست رفتاری سے رجسٹریشن متاثر؛ کرن رجیجو نے دی تین ماہ کی مہلت، کہا: تاخیر پر نہیں ہوگی سخت کارروائی اور نہ ہی جرمانہ

Fri, 05 Dec 2025 21:28:24    S O News
امید پورٹل کی سست رفتاری سے رجسٹریشن متاثر؛ کرن رجیجو نے دی تین ماہ کی مہلت، کہا: تاخیر پر نہیں ہوگی سخت کارروائی اور نہ ہی جرمانہ

نئی دہلی 5/ دسمبر (ایس او نیوز):حکومت کی جانب سے اوقافی جائیدادوں کی رجسٹریشن کے لیے تیار کردہ ’امید پورٹل‘ کے سرور کے بار بار کریش ہونے اور دستاویزات اپلوڈ کرنے میں درپیش مشکلات کے پیش نظر بالآخر مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کیرن رجیجو نے وقف بورڈز کی نمائندگی کرنے والے ایک وفد کو یقین دلایا ہے کہ رجسٹریشن میں تاخیر کی صورت میں اگلے تین ماہ تک نہ کوئی جرمانہ عائد کیا جائے گا اور نہ سخت کارروائی ہوگی، البتہ انہوں نے ڈیڈ لائن میں توسیع سے متعلق کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔

یاد رہے کہ امید پورٹل کی آخری تاریخ 6 دسمبر مقرر ہے جبکہ اس تاریخ میں توسیع سے سپریم کورٹ نے بھی انکار کیا تھا۔ مسلسل سرور ڈاؤن رہنے کی وجہ سے متعدد رجسٹریشن مکمل نہیں ہو سکے اور ملک کے کئی وقف بورڈز اپنی املاک کا صرف محدود ریکارڈ ہی اپ لوڈ کر پائے ہیں۔ یہ پورٹل مرکزی حکومت نے 6 جون کو شروع کیا تھا۔

رپورٹوں کے مطابق پورٹل کی سست رفتاری، صدیوں پرانے اوقافی عطیات کی دستاویزات تلاش کرنا، ڈیجیٹل تربیت یافتہ افراد کی کمی، اور مختلف ریاستوں میں زمین کی پیمائش کے مختلف نظام — یہ سب عوامل عمل کو سست کرنے کی بنیادی وجوہات ہیں۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ امید پورٹل اوقاف (ترمیمی) ایکٹ کے تحت مرکزی ڈیجیٹل ریکارڈ کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے، جس کا مقصد ملک بھر کی اوقافی املاک کی جیو ٹَیگنگ، دستاویزات اور نگرانی کو ایک نظام کے تحت لانا ہے۔ ایکٹ کی شق 3B کے تحت اوقافی املاک کی آن لائن رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں تقریباً 8.7 لاکھ جائیدادیں جو 9.4 لاکھ ایکڑ پر محیط ہیں اور جن کی تخمینی مالیت 1.2 لاکھ کروڑ روپے ہے، انہیں اس پورٹل کے ذریعے زیادہ شفاف اور محفوظ بنایا جائے گا۔

4 دسمبر کو فیکٹ چیک پلیٹ فارم آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر شکایت کی تھی کہ متعدد صارفین پورٹل کھولنے، رجسٹریشن کرنے، او ٹی پی وصول نہ ہونے اور تفصیلات سبمٹ نہ ہونے جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق رجسٹریشن میں اترپردیش 1.4 لاکھ اوقافی املاک کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، اس کے بعد مغربی بنگال، پنجاب، تمل ناڈو اور کرناٹک آتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اترپردیش میں 35 فیصد، مغربی بنگال میں 12 فیصد جبکہ تمل ناڈو اور کرناٹک میں تقریباً 10 فیصد ریکارڈ اپ لوڈ ہو سکا ہے۔ دوسری جانب پنجاب میں تقریباً 80 فیصد ڈیٹا اپ لوڈ ہو چکا ہے، جس کی وجہ وہاں ’’انفرادی جائیدادوں‘‘ کے بجائے ’’وقف اسٹیٹس‘‘ کی بنیاد پر رجسٹریشن ہے، ساتھ ہی ریاست میں متولیان نہ ہونے سے انتظام مزید آسان ہو جاتا ہے۔

کیرن رجیجو نے کہا کہ انہیں وقف بورڈز اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے ڈیڈ لائن میں توسیع کی اپیلیں موصول ہوئی ہیں؛ تاہم 5 دسمبر ہی آخری تاریخ رہے گی۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر کسی وقف جائیداد سے متعلق کوئی شکایت ہو تو اس کے ازالے کے لیے وقف ٹریبونل کا راستہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت ملک بھر میں وقف نظام میں شفافیت، احتساب اور انتظامی مضبوطی کے لیے پرعزم ہے۔


Share: