لکھنؤ 17/اکتوبر(پی ٹی آئی/ایس او نیوز): الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ نے کہا ہے کہ ریاست کے اندر مویشیوں کی نقل و حمل کوئی جرم نہیں ہے۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ گائے ذبح قانون کے تحت لوگوں کو پھنسانے کے متعدد مقدمات سامنے آ رہے ہیں، جس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے سیکریٹری داخلہ اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو ہدایت دی کہ وہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے کئے گئے اقدامات سے متعلق ذاتی حلف نامے داخل کریں۔
عدالت نے دونوں افسران کو متنبہ کیا کہ اگر وہ 7 نومبر تک اپنے حلف نامے داخل نہ کر سکے، تو انہیں ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہو کر جواب دینا ہوگا۔
عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ایسے معاملات میں حکومت پر بھاری جرمانہ عائد کیوں نہ کیا جائے۔
جسٹس عبدالمعین اور جسٹس اے کے چودھری پر مشتمل بینچ نے یہ حکم 9 اکتوبر کو پرتاپ گڑھ کے رہائشی راہول یادو کی درخواست پر دیا۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس اسے محض اس وجہ سے ہراساں کر رہی ہے کیونکہ ایک گاڑی، جس میں مویشی (گائے کی نسل) موجود تھے، اس کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ نو مویشی لے جانے والی گاڑی اس کا ڈرائیور چلا رہا تھا، اور اس کا گائے ذبح کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس لیے اسے گائے ذبح قانون کے تحت ملزم ٹھہرانا غلط ہے۔
درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کے خلاف کوئی زبردستی کی کارروائی نہ کی جائے۔
بینچ نے کہا: “معاملہ اتنا سادہ نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ اس عدالت میں ایسے متعدد مقدمات آ رہے ہیں، جن میں حکام اور شکایت کنندگان کی جانب سے گائے ذبح قانون کے تحت ایف آئی آرز دائر کی جا رہی ہیں۔”
عدالت نے پچھلے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے اندر مویشیوں کی نقل و حمل جرم نہیں ہے، نہ ہی ذبح کرنے کی تیاری کرنا جرم ہے۔
موجودہ مقدمے میں عدالت نے پایا کہ نو کے نو مویشی سلامت تھے، انہیں ذبح نہیں کیا گیا تھا اور وہ امیٹھی سے پرتاپ گڑھ منتقل کیے جا رہے تھے۔ اس لیے درخواست گزار کے خلاف گائے ذبح قانون کا اطلاق غیر مناسب تھا۔
تاہم عدالت نے تفتیش پر روک نہیں لگائی اور درخواست گزار کو پولیس سے تعاون کرنے کی ہدایت دی۔
عدالت نے دونوں اعلیٰ افسران سے یہ وضاحت بھی طلب کی کہ حکومت نے گائے سے متعلق معاملات میں عوامی تشدد اور خودساختہ نگرانی کے رجحان کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔