بھٹکل، 29 اکتوبر (ایس او نیوز): اُترا کنڑا ضلع کے کمٹہ تعلقہ میں واقع تادری بندرگاہ پر ماہی گیری کی کشتی کے اندر مبینہ زہریلی گیس کی زد میں آکر تین ماہی گیروں کی موت کے بعد بدھ کو تینوں کی تدفین عمل میں آئی۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ماہی گیری کے وزیر ایس بسونتپا نے سوگوار خاندانوں سے ملاقات کرتے ہوئے ہر خاندان کو 10 لاکھ روپے معاوضے کے چیک حوالے کیے۔
یہ حادثہ منگل کی شام اُس وقت پیش آیا جب کشتی سے مچھلیاں اتارنے کے بعد ماہی گیر اس کے اندر موجود مچھلیوں کے ذخیرہ کرنے والے حصے کی صفائی کے لیے داخل ہوئے۔ شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ بند اور ہوا کی مناسب آمد و رفت سے محروم اس حصے میں سڑی ہوئی مچھلیوں سے پیدا ہونے والی گیس جمع ہوگئی تھی، جس کی زد میں آکر ماہی گیر بے ہوش ہوگئے۔
دیگر ماہی گیروں نے فوری طور پر بچاؤ کی کوشش کرتے ہوئے چاروں افراد کو باہر نکالا اور قریبی اسپتال پہنچایا، تاہم ان میں سے تین کی جان نہیں بچائی جاسکی۔ شدید متاثر ہونے والے چوتھے ماہی گیر کو مزید علاج کے لیے منی پال کے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔

حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی شناخت ہینی کے نوشاد علی شاہ راجہ (35) اور عامر عبدال عنچلی (20) جبکہ اونّلی کے امان ایوب (18) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ تینوں کمٹہ تعلقہ کے رہنے والے اور کشتی پر ماہی گیری کے کام سے وابستہ تھے۔
امان کی تدفین بدھ کی صبح تقریباً 11 بجے اونالی میں عمل میں آئی۔ نوشاد اور عامر کی نمازِ جنازہ ہینی کی فاروقی مسجد میں ادا کی گئی، جس کے بعد دونوں کو قریبی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
نوشاد اپنے پیچھے اہلیہ اور ایک بیٹی چھوڑ گئے ہیں، جبکہ عامر کے پسماندگان میں اہلیہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ امان کے بڑے بھائی بھی ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ امان کی ایک چھوٹی بہن ہے اور ان کے والد جسمانی طور پر معذور ہیں۔
ریاستی ماہی گیری کے وزیر ایس بسونتپا نے بدھ کی صبح کمٹہ پہنچ کر مہلوکین کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور تعزیت پیش کی۔ اس موقع پر انہوں نے ریاستی حکومت کی جانب سے تینوں خاندانوں کو فی کس 10 لاکھ روپے کے معاوضے کے چیک حوالے کیے۔
اس حادثے سے کمٹہ، انکولہ، ہوناور اور بھٹکل کے ماہی گیر طبقے میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ واقعے کے سلسلے میں گوکرن پولیس اسٹیشن میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔