پٹنہ، 30/دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)70ویں بی پی ایس سی پریلیمنری امتحان کی منسوخی کے مطالبے پر احتجاج کرتے ہوئے اتوار کو پٹنہ میں مظاہرہ کر رہے امیدواروں پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا۔ اس کے ردعمل میں، آج (30 دسمبر) مختلف طلبا تنظیموں اور لیفٹ پارٹیوں نے امیدواروں کی حمایت میں بہار کے مختلف علاقوں میں ریل چکہ جام کیا، جس کے تحت دربھنگہ سمیت کئی مقامات پر ٹرینوں کو روکا گیا۔
دربھنگہ میں آئیسا نے دہلی جانے والی بہار سمپرک کرانتی کو روکا تو وہیں آرہ میں بکسر-پٹنہ پیسنجر ٹرین کو روک کر مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت طلبا کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔ دوسری طرف آرہ میں سردار پٹیل بس اسٹینڈ کے پاس آرہ-پٹنہ اہم شاہراہ کو بھی جام کر دیا گیا، جس سے گاڑیوں کی آمد و رفت پر کافی اثر پڑا۔
اے آئی ایس اے اور آر وائی اے کے اراکین نے آراہ ریلوے استیشن پر پہنچ کر پلیٹ فارم-1 پر 03376 بکسر-پٹنہ پسنجر ٹرین کو روک دیا۔ مظاہرین نے ٹرین کے انجن اور ٹریک پر کھڑے ہوکر بہار حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور مہلوک بی پی ایس سی امیدوار سونو کمار کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔
آر وائی اے کے ریاستی کے سکریٹری اور اگیاؤں کے رکن اسمبلی شیو پرکاش رنجن نے کہا کہ بی پی ایس سی کا 70واں پی ٹی پٹنہ سمیت بہار کے مختلف مراکز پر پیپر لیک اور بے ضابطگیوں کے ساتھ مکمل ہوا، اس لیے امتحان منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ امیدوار ٹھنڈ میں دھرنا پر بیٹھے ہیں لیکن نتیش-بی جے پی حکومت نہ صرف اپنے ضد پر اڑی ہے بلکہ انصاف کا مطالبہ کر رہے نوجوانوں پر بربریت کے ساتھ لاٹھی چارج کروا رہی ہے۔
آرہ میں ٹرین روکنے کے دوران طلبا تنظیم کے کارکنان مشتعل ہو گئے۔ پولیس انہیں ٹریک سے ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وہ ماننے کو تیار نہیں تھے۔ اس کو لے کر اگیاؤں کے رکن اسمبلی شیو پرکاش رنجن نے کہا کہ طلبا تنظیموں کے ساتھ جس بربریت سے پیش آیا گیا اور امیدواروں پر لاٹھی چارج کیا گیا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ اس دوران امتحان منسوخ کرنے سمیت قصورواروں کے خلاف کارروائی کے مطالبہ کو لے کر طلبا مسلسل مظاہرہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔