ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مینگلور کے قریب بنٹوال میں تلوار کے حملے میں نوجوان کی ہلاکت کے بعد ضلع بھر میں کشیدگی؛ ہزاروں کی موجودگی میں تدفین

مینگلور کے قریب بنٹوال میں تلوار کے حملے میں نوجوان کی ہلاکت کے بعد ضلع بھر میں کشیدگی؛ ہزاروں کی موجودگی میں تدفین

Thu, 29 May 2025 13:44:30    S O News
مینگلور کے قریب بنٹوال میں تلوار کے حملے میں نوجوان کی ہلاکت کے بعد  ضلع بھر میں کشیدگی؛ ہزاروں کی موجودگی میں تدفین

مینگلور  29/ مئی (ایس او نیوز )  منگل کی شام جنوبی کینرا کے تعلقہ بنٹوال کے کالپنے، کاگُدّے علاقے میں  تلوار کے حملے میں عبدالرحمن نامی نوجوان کی موت کے بعد پورے ضلع دکشن کنڑا میں  فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے اور مسلمان،  پولس سمیت کانگریس سرکار پر اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں، اس درمیان  مقتول  عبدالرحمٰن کی تدفین بدھ کی دوپہر کولتمجلسو جمعہ مسجد کے احاطہ میں عمل میں آئی۔جس کے دوران  ہزاروں افراد نے شرکت کی اور میت کا  آخری دیدار کیا۔

بدھ کی صبح ڈیراّلکٹے کے نجی اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے بعد میت کو  اہل خانہ کے حوالے کیا گیا تھا۔تجہیز و  تدفین کی کارروائی کُتھار کے قریب مدنی نگر مسجد میں ہوئی، جہاں سے جنازے کو   تھوکوٹو، پمپ ویل، پڈیل، فرنگی پیٹے، مِتّبائل سے ہوتے ہوئے مرحوم کے گھر پہنچایا گیا، اس موقع پر سینکڑوں گاڑیاں   ایمبولنس کے پیچھے پیچھے چلتی دیکھی گئی۔ وہاں اہل خانہ اور عوام میت کو دیکھ کر زاروقطار رو پڑے۔ گھر پر ان کے والدین، بہن، بیوی و دیگر رشتہ دار موجود تھے۔

Click here to watch the video clip of the funeral procession attended by thousands

 جنازہ کے دوران عوام کا احتجاج:  فرنگی پیٹے اور متتبائل میں جنازہ کے دوران عوام کی بڑی بھیڑ جمع ہوئی جہاں ناراض عوام نے  سڑک بند کرکے احتجاج کیا۔ عوام نے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ملزمین کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے کافی جدوجہد کے بعد ہجوم کو منتشر کیا اور پھر ایمبولینس کو مرحوم کے گھر لے جانے کی راہ دی۔

 پانچ پولیس ٹیمیں تشکیل؛ دفعہ 163 کے تحت پابندیاں نافذ:   فرقہ وارانہ کشیدگی کے پیش نظر، بنٹوال ڈی وائی ایس پی کی قیادت میں پانچ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ ملزمین کو گرفتار کیا جا سکے۔ ضلع کے پانچ تعلقوں اور منگلورو کمشنری حدود میں 30 مئی شام 6 بجے تک دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ رہیں گے۔ حساس علاقوں میں اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔

 ضلع بھر میں خودساختہ بند؛ ٹرانسپورٹ بند : بدھ کے روز دکشن کنڑا ضلع کے مختلف علاقوں میں خودساختہ بند دیکھا گیا۔ سرکاری و نجی بسوں، آٹو کی نقل و حرکت محدود رہی اور بیشتر دکانیں بند تھیں۔ سورتکل میں  بعض ناراض لوگوں نے ایک سروس بس پر پتھراؤ کیا جس سے شیشے ٹوٹ گئے۔ پولیس نے احتیاطی اقدامات کے طور پر عوام سے دکانیں بند رکھنے کی اپیل کی۔ سورتکل  میں بدھ کو لگنے والی   ہفتہ واری مارکیٹ بھی منسوخ کر دی گئی۔

 اینٹی کمیونل ٹاسک فورس کا اعلان صرف کاغذی؟ جنوبی کینرا کے پرامن عوام نے سوال اٹھایا ہے کہ ریاستی سرکار  نے 25 دن قبل اینٹی کمیونل ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کیا تھا، مگر تاحال کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے مینگلور دورے کے موقع پر 3 مئی کو اس کا اعلان کیا تھا، لیکن ابھی تک کوئی کارروائی نظر نہیں آرہی ہے۔

عوام کا کہنا ہے کہ  قتل کی واردات کے صرف دو روز  قبل ہی  بغیر اجازت احتجاجی جلسہ میں اشتعال انگیز تقاریر ہوئیں جس میں قتل کا بدلہ لینے کی بات کی گئی تھی، مگر انتظامیہ نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ عبدالرحمٰن کے ساتھ پک اپ گاڑی میں موجود ان کا ساتھی  قلندر شافعی عرف امتیاز  اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے، جس نے  عبدالرحمن پر ہورہے حملے کو بچانے کی کوشش کی تھی، وہ بھی  تلوار کے حملے میں شدید  زخمی ہیں ۔عوام نے انتظامیہ کے طرزِ عمل پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

اُدھر دوسری طرف   فرقہ وارانہ واقعات سے نمٹنے کے لیے ریاستی کانگریس حکومت  ایک خصوصی ٹاسک  فورس تشکیل دینے  کے لئے منصوبہ بندی میں لگی ہوئی ہے جس کے تعلق سے پتہ چلا ہے کہ   یہ فورس دکشن کنڑا، شیموگہ اور اُڈپی میں تین کمپنیوں پر مشتمل ہوگی، جس میں 248 افسران، بشمول ایک ڈی آئی جی پی، شامل ہوں گے، جو اینٹی نکسل فورس سے لیے جائیں گے ۔

تین  گرفتار ؟: واضح رہے کہ  شرپسندوں کے حملے میں ایک کی موت اور دوسرے کے شدید زخمی ہونے کے بعد  بنٹوال پولیس نے   دیپک اور سمیتھ   سمیت  15 افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے ہیں اور خبر ملی ہے کہ  اب تک پولس نے  تین مشتبہ لوگوں کو گرفتار اپنی حراست میں لے کر  تفتیش کررہی ہے۔  ملزمین کی گرفتاری کے لیے پانچ خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں ۔

 حکومتی اقدامات
وزیر اعلیٰ سدارامیا نے پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے اور حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس واقعے اور ضلع میں حالیہ دیگر قتل کی وارداتوں  کے درمیان ممکنہ روابط کی تحقیقات کریں ۔

یاد رہے کہ 27 مئی 2025 کو، عبد الرحمن، جو کہ 32 سالہ پک اپ ڈرائیور تھے ساتھ ساتھ کولتماجالو جمعہ مسجد کے سیکریٹری  بھی تھے، کو بے دردی سے قتل کر دیا گیاتھا۔ ان کے ساتھی، کلندر شافع بھی واردات میں شدید زخمی ہوئے  ہیں اور وہ منگلور کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج ہیں ۔

عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر فرقہ وارانہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے اور جنوبی کینرا کو دوبارہ پرامن ماحول مہیا کرے۔

Watch SahilOnline's exclusive video report published shortly after the incident 


Share: