ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اسپیشل رپورٹس / کیا نیوز چینلس اور پرائم ٹائم کی بادشاہت کا خاتمہ ہوگیا؟ سوشل میڈیا نے خبروں کی دنیا کا نقشہ بدل دیا

کیا نیوز چینلس اور پرائم ٹائم کی بادشاہت کا خاتمہ ہوگیا؟ سوشل میڈیا نے خبروں کی دنیا کا نقشہ بدل دیا

Sun, 26 Jul 2026 02:29:40    IG Bhatkali
کیا نیوز چینلس اور پرائم ٹائم کی بادشاہت کا خاتمہ ہوگیا؟ سوشل میڈیا نے خبروں کی دنیا کا نقشہ بدل دیا

بھٹکل 25/جولائی (ایس او نیوز) ایک وقت تھا جب ہندوستان میں عوام کیا دیکھیں گے، کس موضوع پر بحث ہوگی اور کون سا واقعہ قومی ایجنڈا بنے گا، اس کا فیصلہ ٹیلی ویژن کے پرائم ٹائم اسٹوڈیوز کرتے تھے۔ بڑے نیوز چینل ہی خبر کے دربان (Gatekeepers) سمجھے جاتے تھے، لیکن سی جے پی (CJP) احتجاج نے اس کئی دہائیوں پر محیط برتری کو غیر معمولی چیلنج دے دیا۔

جب مین اسٹریم ٹی وی چینلز اس تحریک کی اہمیت کو سمجھنے یا اسے مناسب کوریج دینے میں تاخیر کرتے رہے، اسی دوران سوشل میڈیا نے پورے ملک میں اس احتجاج کو عوامی بحث کا مرکز بنا دیا۔ پولیس کی ہر کارروائی، ہر نعرہ، ہر تقریر اور ہر ویڈیو چند منٹوں میں ریکارڈ ہو کر ایڈٹ ہوئی، میمز میں تبدیل ہوئی اور لاکھوں افراد تک پہنچ گئی۔ لوگوں نے رات کے پرائم ٹائم بلیٹن کا انتظار کرنے کے بجائے انسٹاگرام ریلس، یوٹیوب شارٹس، ایکس (ٹوئٹر) اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے براہِ راست معلومات حاصل کرنا شروع کر دیں۔ اسمارٹ فونز نے عملاً سیٹلائٹ وینز اور بڑے نیوز رومز کا کردار سنبھال لیا۔

دلچسپ حقیقت یہ رہی کہ اس تحریک کو سب سے بڑی توثیق اس وقت ملی جب وزیر اعظم نریندر مودی نے خود مظاہرین کا ذکر کیا۔ اس کے بعد ٹی وی چینلز کو بھی اس خبر پر توجہ دینا پڑی، مگر تب تک ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اس بحث کو قومی سطح پر لاکھوں لوگوں تک پہنچا چکے تھے اور ٹیلی ویژن ایک ایسی خبر کے پیچھے دوڑ رہا تھا جو پہلے ہی وائرل ہو چکی تھی۔

یہ احتجاج صرف ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ہندوستانی میڈیا کی بدلتی ہوئی ساخت کی علامت بن گیا۔ اب عوامی بیانیہ صرف نیوز اسٹوڈیوز میں تشکیل نہیں پاتا بلکہ لاکھوں اسمارٹ فون رکھنے والے شہری بھی اس عمل کا حصہ بن چکے ہیں۔ خبر اب پہلے سوشل میڈیا پر جنم لیتی ہے، وہیں پھیلتی ہے اور بعد میں ٹی وی اس کی پیروی کرتا ہے۔

اس تبدیلی نے واضح کر دیا ہے کہ مین اسٹریم میڈیا کی وہ اجارہ داری، جو برسوں تک قومی بیانیے پر قائم تھی، اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ اگرچہ ٹیلی ویژن آج بھی اثر و رسوخ رکھتا ہے، لیکن خبروں کی رفتار، رسائی اور عوامی توجہ حاصل کرنے کی دوڑ میں سوشل میڈیا کئی مواقع پر اس سے آگے نکل چکا ہے۔ آج خبر کا رخ اکثر نیوز روم نہیں، بلکہ صارفین کے ہاتھ میں موجود ایک اسمارٹ فون طے کر رہا ہے۔


Share: