ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / یو پی آئی پر ایم ڈی آر کے خلاف عرضی، سپریم کورٹ نے فوری راحت دینے سے کیا انکار

یو پی آئی پر ایم ڈی آر کے خلاف عرضی، سپریم کورٹ نے فوری راحت دینے سے کیا انکار

Mon, 28 Sep 2026 17:07:09    S O News

نئی دہلی   ، 28/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) سپریم کورٹ نے پیر کو۲؍ ہزار روپے سے زائد کی یو پی آئی ادائیگیوں پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) عائد کرنے کے خلاف دائر درخواست پر مرکزی حکومت اور دیگر فریقین سے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے۱۵؍ اکتوبر سے۲؍ ہزار روپے سے زائد کی مخصوص ’پرسن ٹو مرچنٹ‘ یو پی آئی لین دین پر ایم ڈی آر عائد کرنے کے مرکز کے فیصلے پر روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے جواب دہندگان کو چار ہفتوں کے اندر جوابی حلف نامے داخل کرنے کی ہدایت دی۔ سماعت کے دوران مرکز نے عدالت کو بتایا کہ یو پی آئی گیٹ وے استعمال کرنے والے تقریباً۹۶؍فیصد افراد اس چارج سے مستثنیٰ رہیں گے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ یہ معاملہ قانونی سے زیادہ تکنیکی نوعیت کا معلوم ہوتا ہے اور تمام فریقین کو متعلقہ مواد ریکارڈ پر پیش کرنے کی ہدایت کی۔

مرکزی حکومت کی جانب سے ۱۵؍ستمبر کو اعلان کیا گیا نیا نظام۱۵؍ اکتوبر سے نافذ ہوگا۔ اس کے تحت۲؍ ہزار روپے سے زائد کی اہل مرچنٹ ادائیگیوں پر۰ء۴؍ فیصد ایم ڈی آر عائد کیا جائے گا، جبکہ ۷۵؍ہزار روپے یا اس سے زیادہ کی ادائیگی پر یہ فیس زیادہ سے زیادہ۳۰۰؍ روپے ہوگی۔ یہ فیس مرچنٹ ادائیگی کے نظام کے اندر عائد ہوگی اور حکومت کے مطابق صارفین سے الگ سے ایم ڈی آر وصول نہیں کیا جائے گا۔

۲؍ہزار روپے سے زائد کی مخصوص ’پرسن ٹو مرچنٹ‘ یو پی آئی ادائیگیوں پر۰ء۴؍ فیصد ایم ڈی آر مقرر کیا گیا ہے۔ ۷۵؍ ہزار روپے یا اس سے زیادہ کی ادائیگی پر یہ فیس۳۰۰؍ روپے کی زیادہ سے زیادہ حد تک پہنچ جائے گی۔ ضروری اشیا اور کم منافع والے شعبوں کیلئے الگ نظام رکھا گیا ہے۔ ریلوے، ٹیلی کمیونیکیشن، انشورنس، ایندھن اور زرعی مصنوعات سے متعلق ۲؍ ہزار روپے سے زائد کی ادائیگیوں پر فی لین دین ۵؍ روپے کی مقررہ ایم ڈی آر عائد ہوگی۔ رپورٹس کے مطابق میوچوئل فنڈز، سیکیورٹیز، اسٹاک بروکرز اور ڈیلرز سے متعلق ادائیگیوں پر نسبتاً کم، یعنی ۰ء۰۲؍فیصد ایم ڈی آر عائد ہوگی، جس کی زیادہ سے زیادہ حد۳۰۰؍ روپے مقرر کی گئی ہے۔ ’پرسن ٹو پرسن‘ یو پی آئی منتقلی رقم سے قطع نظر مکمل طور پر مفت رہے گی۔ اسی طرح ۲؍ہزار روپے تک کی مرچنٹ ادائیگیاں اور چھوٹے تاجروں کیلئے زیرو ایم ڈی آر نظام کے تحت آنے والے لین دین بھی مفت رہیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تقریباً۹۶؍ فیصد مرچنٹ لین دین اس نئے نظام سے متاثر نہیں ہوں گے۔

یہ مفادِ عامہ کی درخواست (PIL) وکیل انجَن دتہ نے دائر کی ہے، جس میں مرکز کی جانب سے۱۴؍ ستمبر کو جاری نوٹیفکیشن اور۱۵؍ ستمبر کو اعلان کئے گئے ایم ڈی آر نظام کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ نظام۱۵؍ اکتوبر سے نافذ ہونا ہے۔ درخواست میں پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹمز ایکٹ، ۲۰۰۷ءکی ترمیم شدہ دفعہ۱۰؍اے کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یہ دفعہ حکومت کو یہ طے کرنے کیلئے واضح اور مناسب حدود فراہم نہیں کرتی کہ کن الیکٹرانک ادائیگی کے طریقوں کو چارجز سے تحفظ حاصل ہونا چاہئے۔ درخواست میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ کیا مناسب قانونی تحفظات، شفافیت اور عوامی مشاورت کے بغیر صرف نوٹیفکیشن اور متعلقہ اعلانات کے ذریعے ایم ڈی آر نظام نافذ کیا جاسکتا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے کہا ہے کہ پریس ریلیز یا ایف اے کیوز کی بنیاد پر ایم ڈی آر یا اس نوعیت کا کوئی لازمی چارج عائد نہیں کیا جاسکتا، جب تک کہ اس کیلئے باقاعدہ مجاز، مستند اور شائع شدہ قانونی حکم موجود نہ ہو۔

درخواست میں یو پی آئی اور روپے ڈیبٹ کارڈ لین دین کے ساتھ مختلف برتاؤ پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت ۲؍ہزار روپے تک کی یو پی آئی ادائیگیاں زیرو چارج رہیں گی، جبکہ روپے سے چلنے والے ڈیبٹ کارڈز کیلئے نوٹیفکیشن میں بغیر کسی مالی حد کے چارج فری سہولت برقرار رکھی گئی ہے۔ درخواست گزار نے اس فرق کو امتیازی اور من مانی قرار دیتے ہوئے اس پر اعتراض کیا ہے۔ درخواست میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ایم ڈی آر نظام سے کم منافع پر کاروبار کرنے والے تاجروں پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اخراجات بالواسطہ طور پر صارفین پر منتقل ہونے اور ڈجیٹل ادائیگیوں سے محرومی جیسے خدشات بھی ظاہر کئے گئے ہیں۔

مفادِ عامہ کی درخواست میں ۲؍ہزار روپے سے زائد کی یو پی آئی ادائیگیوں پر چارج عائد کرنے کی حد تک ایم ڈی آر نظام کو منسوخ یا معطل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ متبادل طور پر درخواست گزار نے شفاف مشاورت، اعداد و شمار کی اشاعت اور اثرات کے جائزے کے بعد نظام پر نظرثانی کی درخواست کی ہے۔ ساتھ ہی مائیکرو اور چھوٹے کاروباری اداروں کے تحفظ کے لیے مناسب انتظامات کی بھی مانگ کی گئی ہے۔ درخواست میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ مستقبل میں ایم ڈی آر کا تعین صرف ایک مقررہ رقم کی حد کی بنیاد پر نہ کیا جائے، بلکہ تاجر کے کاروباری حجم، ایم ایس ایم ای کی حیثیت، حقیقی منافع، جغرافیائی صورتحال اور اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ مرکزی حکومت کے علاوہ بھارتی ریزرو بینک (آر بی آئی) سمیت دیگر متعلقہ فریقین کو بھی اس مقدمے میں فریق بنایا گیا ہے۔ 


Share: