چینائی، 3؍اکتوبر (ایس او نیوز): تمل ناڈو کے ڈرگز کنٹرول ایڈمنسٹریشن (ڈی ڈی سی اے) نے کولڈرف کھانسی کی دوا کی فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے کنچی پورم ضلع میں واقع مینوفیکچرنگ پلانٹ پر تیار شدہ تمام اسٹاک کو منجمد کردیا ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب مدھیہ پردیش اور راجستھان میں اس دوا کے پینے کے بعد مبینہ طور پر آٹھ بچوں کی موت کی خبر سامنے آئی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ ضلع میں گذشتہ تین ہفتوں کے دوران چھ بچوں کی موت کے بعد ریاستی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے تمل ناڈو حکام کو اس سلسلہ میں مطلع کیا تھا۔
تمل ناڈو کے ڈپٹی ڈائریکٹر آف ڈرگز کنٹرول، ایس گروبھارتھی نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ریاست بھر میں تمام ڈرگ انسپکٹروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ادویات کی دکانوں سے کولڈرف ٹانک کی فروخت روکیں اور جہاں بھی یہ دوا دستیاب ہو اسے ضبط کرلیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کولڈرف کے اسی بیچ سمیت کل پانچ نمونے لیب جانچ کے لئے روانہ کئے گئے ہیں۔
یہ ٹانک کنچی پورم کے سونگورچتھرام میں واقع سریسن فارماسیوٹیکلز کے یونٹ میں تیار کیا جاتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ دوا تمل ناڈو کے مختلف حصوں کے علاوہ اڈیشہ اور پڈوچیری کو بھی سپلائی کی جاتی ہے، اس لئے متعلقہ ریاستوں کو بھی فوری طور پر خبردار کردیا گیا ہے۔
مدھیہ پردیش کے ڈرگ کنٹرولر دنیش کمار موریہ نے تمل ناڈو حکام کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے بتایا کہ کولڈرف کے مشتبہ بیچ (نمبر SR-13، مینوفیکچرنگ: مئی 2025، ایکسپائری: اپریل 2027) کے نمونے جانچ کے لئے ضبط کئے گئے ہیں۔
ادھر مرکزی وزارتِ صحت نے بھی ملٹی ایجنسی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق شبہ ہے کہ اس دوا میں ڈائی ایتھیلین گلائکول کے ذرات پائے گئے ہیں جو گردوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ متاثرہ بچوں کے نمونے مزید جانچ کے لئے پونے کے وائرولوجی انسٹی ٹیوٹ بھیجے گئے ہیں۔