ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سپریم کورٹ کا تمل ناڈو حکومت پر طنز: سنتھل بالا جی کیس میں مقدمے کے لیے کرکٹ اسٹیڈیم کی ہوگی ضرورت!

سپریم کورٹ کا تمل ناڈو حکومت پر طنز: سنتھل بالا جی کیس میں مقدمے کے لیے کرکٹ اسٹیڈیم کی ہوگی ضرورت!

Wed, 30 Jul 2025 20:10:39    S O News

نئی دہلی، 30 /جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی) سپریم کورٹ نے بدھ کے روز تمل ناڈو کے سابق وزیر وی سنتھل بالا جی کے خلاف "نوکری کے عوض رشوت" کیس کی سماعت کے دوران ریاستی حکومت پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی کارروائی کے لیے شاید ایک کرکٹ اسٹیڈیم کی ضرورت پڑے، کیونکہ اس میں 2,300 سے زائد افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کی تفتیشی حکمت عملی کو غیرمنظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ بغیر سمت کی کشتی کی مانند ہے، اور 200 سے زیادہ گواہوں کو پیش کرنے کی کوشش شاید ملک کی سب سے بڑی عدالتی سماعت بن جائے گی۔

جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئمالیہ باگچی پر مشتمل بینچ نے کہا کہ اتنے زیادہ ملزمان کی عدالت میں حاضری ممکن ہی نہیں، اور طنزیہ انداز میں کہا کہ "شاید ان میں 100 فرضی اے آئی سے بنائے گئے ملزمان بھی ہوں!" عدالت نے ریاستی حکومت پر دانستہ طور پر کیس کو طول دینے کا الزام لگایا تاکہ اصل ملزم سنتھل بالا جی کو فائدہ پہنچے۔ بنچ نے سوال کیا کہ وزیر کے علاوہ کون کون سے بروکر، افسران، سلیکشن کمیٹی ممبران اور دیگر افراد اس گھوٹالے میں شامل تھے۔

عرضی گزار کے وکیل گوپال شنکرنارائنن نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی حکومت خود سابق وزیر کے ساتھ ملی ہوئی ہے، اور ان معصوم افراد کو بھی ملزم بنایا گیا ہے جنہوں نے مجبوری میں رشوت دی تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر، اس کا بھائی اور پرسنل اسسٹنٹ جیسے اصل ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے اور باقی افراد کو بطور گواہ پیش کیا جائے۔ ریاست کی طرف سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے خصوصی پبلک پراسیکیوٹر کے تقرر کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ریاستی عدلیہ پر اعتماد مجروح ہوگا۔

عدالت نے ریاستی حکومت کو حکم دیا کہ تمام ملزمان اور گواہوں کی فہرست پیش کی جائے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ ان میں کتنے افراد مشترک ہیں۔ عدالت نے یہاں تک ہدایت دی کہ کیس کی وضاحت کے لیے "وین ڈایاگرام" بھی تیار کیا جائے۔ کیس کی اگلی سماعت 11 اگست کو ہوگی۔

یاد رہے کہ سنتھل بالا جی کو جون 2023 میں منی لانڈرنگ کے الزام میں ای ڈی نے گرفتار کیا تھا اور ستمبر 2024 میں سپریم کورٹ نے اس بنیاد پر ضمانت دی تھی کہ مقدمہ جلد ختم ہونے کے آثار نہیں۔ مگر ضمانت کے صرف تین دن بعد انہیں دوبارہ ریاستی کابینہ میں شامل کر لیا گیا، جس پر شدید سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا۔ اپریل 2025 میں عدالت نے بالا جی سے کہا تھا کہ یا تو وزارت چھوڑیں یا ضمانت۔ ریاستی حکومت پر الزام ہے کہ اس نے دس چارج شیٹس میں 2,300 سے زائد افراد کو ملزم بنا کر مقدمے کو اس حد تک پیچیدہ کر دیا کہ اصل ملزمان بچ نکلیں اور کیس کبھی انجام تک نہ پہنچے۔


Share: