سرسی، 8 / جولائی (ایس او نیوز) سرسی سٹی میونسپل کاونسل کے تحت شہر میں پانی کی سپلائی کے لئے زیر زمین بچھائے گئے پرانے زنگ آلود لوہے کے پائپس چوری کے معاملے میں ضلع ایس پی نے انکشاف کیا ہے کہ اس میں خود سٹی میونسپل کاونسل کے کمشنر اور دیگر اہلکار ملوث ہیں ۔
سرسی کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے دفتر میں بلائی گئی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایس پی نارائین ایم نے بتایا کہ سرسی میں پانی سپلائی کے لئے 1969 میں بچھائے گئے 8 کیلو میٹر لمبے پرانے پائپس کو غیر قانونی طور پر امسال 20 فروری سے 27 فروری کے درمیان نکال کر غائب کر دیا گیا تھا ۔ اس معاملے کی تحقیقات کے بعد پرانے پائپس چوری کرنے کے اس معاملے میں سی ایم سی کے کمشنر کانتا راجو، جونئیر انجینئر سفیان احمد بیاری، اسسٹنٹ ایکزیکٹیو انجینئر پرشانت ویرنیکر، سی ایم سی اراکین گنپتی نائک، کمار بورکر، یشونت مراٹھے شامل رہنے کی بات سامنے آئی ہے ۔
اس معاملے کا پس منظر بتاتے ہوئے پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ سی ایم سی کے جونیئر انجینئر سفیان احمد بیاری نے سرسی دیہی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی کہ میری یا سی ایم سی کی اجازت، قانون کے مطابق کوئی ٹینڈرطلب کرنے جیسی کسی بھی کارروائی کے بغیر پانی سپلائی کے لئے بچھائے 900 میٹر لمبے جملہ 116 کاسٹ آئرن کے پائپس چرائے گئے ہیں جن کی قیمت تقریباً 21.18 لاکھ روپے بنتی ہے ۔ مجھے شبہ ہے کہ شکاری پور کا گجری سامان کے ٹھیکیدار سید زکریا نے اس چوری کی واردات کو انجام دیا ہے ۔
اس شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے پچھلے تحقیقاتی افسر (آئی او) سیتا رام بی نے شکاری پور کے رہنے والے گجری مال کے ٹھیکیدار سید زکریا سے پوچھ تاچھ کی اور چرائے گئے پرانے پائپس فروخت کرکے حاصل کیے گئے 7.02 لاکھ روپے بازیافت کیے ۔ زکریا سے تفتیش کے دوران سی ایم سی کے کمشنر سمیت دیگر افسران اور اراکین کے اس معاملے میں حصہ دار رہنے کی بات معلوم ہوئی ۔
اس کے بعد تمام ملزمین سے پوچھ تاچھ کی گئی اور سرسی دیہی پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر منجو ناتھ گوڑا نے معاملے کی تفتیش آگے بڑھایا جس میں ثابت ہوا ہے کہ سید زکریا نے اپنے شناسا سی ایم سی اراکین کی ذریعے سی ایم سی کمشنر اور انجینئروں کے ساتھ مل کر فروری کے مہینے میں زمین کے اندر سے پرانے پائپس نکال کر فروخت کرنے کا جرم انجام دیا تھا ۔ اس واردات کے لئے استعمال کی گئی 3 جے سی بی مشینیں، کرین اور لاریوں کو ضبط کیا گیا ہے ۔ چرائے گئے کاسٹ آئرن پائپس ملزمین کی طرف سے فروخت کرنے کے بعد ٹکڑے بنا کر فرنیس میں پگھلانے کے لئے بھیجا جا چکا ہے ۔ اس کے علاوہ ملزمین نے عدالت سے ضمانت حاصل کر لی ہے ۔
پولیس ایس پی نے بتایا کہ چونکہ اس معاملے میں سرکاری ملازمین اور تین سی ایم سی کے اراکین (پبلک سرونٹس) شامل ہیں اس لئے بینگلورو کے ڈائریکٹوریٹ آف میونسپل ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر سے یہ جاننے کے لئے رابطہ قائم کیا گیا ہے کہ ان ملزمین کے خلاف جانچ کی قطعی رپورٹ عدالت میں داخل کرنے، انہیں نوکری سے برخاست کرنے جیسے اختیارات کس کے پاس ہیں ؟ وہاں سے جواب ملنے کے بعد سرکاری ملازمین پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی ۔