نئی دہلی، 31/دسمبر (ایس او نیوز/ایجنسی ) نئے سال کا آغاز بس کچھ گھنٹوں میں ہونے والا ہے، لیکن اس دوران لوگوں کو شدید سرد لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جنوری کے پہلے ہفتے میں دو اہم پہاڑی سلسلوں پر 'ویسٹرن ڈسٹربنس' کا اثر دیکھنے کو ملے گا، جس کے باعث کم سے کم درجہ حرارت میں زبردست گراوٹ آئے گی۔ اس کے نتیجے میں ملک کے بیشتر حصوں میں سرد ہوائیں پھیل جائیں گی اور سردی میں مزید شدت آئے گی۔
اس وقت ملک کی تقریباً 22 ریاستیں شدید سرد لہر کی چپیٹ میں ہیں۔ محکمہ موسمیات نے نئے سال کے پہلے ہفتے میں 7 جنوری تک اور زیادہ ٹھنڈ پڑنے کی پیش گوئی کی ہے۔ الرٹ کے مطابق پہاڑوں پر 2 ویسٹرن ڈسٹربینس فعال ہو رہے ہیں۔ اس کے اثر سے نصف سے زیادہ ملک میں موسم کا مزاج بالکل تبدیل ہو جائے گا۔ دہلی-پنجاب سے لے کر جموں کشمیر-اتراکھنڈ تک کپکپانے والی ٹھنڈ پڑے گی۔ اس کا اثر تلنگانہ اور مہاراشٹر میں بھی دیکھنے کو ملے گا۔
موسم سے متعلق ایجنسی اسکائی میٹ کے مطابق 'ویسٹرن ڈسٹربینس' کے آنے کی حالت بن چکی ہے، اس سے پہاڑوں پر 3 سے 6 جنوری کے درمیان شدید برفباری ہو سکتی ہے۔ اس کے پہلے تین دنوں تک بارش کے اثر سے شمالی ہند کی ریاستوں کے کم سے کم درجہ حرارت میں گراوٹ آئی ہے۔
پنجاب، ہریانہ، دہلی اور اتر پردیش میں کہرے کا اثر بھی رہے گا لیکن ایک-دو دنوں میں جیسے ہی ہوا کی رفتار بڑھے گی، ویسے ہی کہرا ختم ہو جائے گا۔ موسم صاف ہوگا اور دھوپ نکلے گی۔ اس سے 2 اور 3 جنوری کے درمیان میدانی علاقوں کے کم سے کم درجہ حرارت میں تھوڑا اضافہ ہو سکتا ہے، مگر ویسٹرن ڈسٹربینس کا اثر ہوتے ہی 4-3 جنوری کی رات سے درجہ حرارت پھر گرنے لگ جائے گا۔ اسی دوران پہاڑیوں کے نچلے علاقوں میں بھی برفباری ہونے لگے گی۔
3 سے 6 جنوری کے بیچ ہماچل اور اتراکھنڈ میں بھی برفباری کا امکان ہے۔ کُلو، منالی، شملہ میں بھی شدید برفباری ہو سکتی ہے۔ اس کا اثر نچلے علاقوں جیسے ہری دوار، رشی کیش تک دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں برفباری نہیں، لیکن بارش ہو سکتی ہے۔ اگلے ہفتے سے ہواؤں میں ٹھنڈک بڑھنے کی وجہ سے پنجاب، ہریانہ اور مغربی اتر پردیش میں رات میں پالا گرنے کے آثار ہیں۔