ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ملک بھر میں اسکولوں میں طلبا کی تعداد میں 37 لاکھ کا اضافہ، وزارت تعلیم کا انکشاف

ملک بھر میں اسکولوں میں طلبا کی تعداد میں 37 لاکھ کا اضافہ، وزارت تعلیم کا انکشاف

Thu, 02 Jan 2025 12:34:57    S.O. News Service

نئی دہلی ، 2/ جنوری(ایس او نیوز/ایجنسی )ملک کے اسکولوں میں طلبا کے داخلوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کا انکشاف وزارت تعلیم کی یونافائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن (یو ڈی آئی ایس ای) کی رپورٹ میں ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، تعلیمی سال 2023-24 میں اسکولوں میں داخلوں میں 37 لاکھ کی کمی آئی ہے، جو خاص طور پر ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور لڑکیوں کے زمرے میں سب سے زیادہ ہے۔ درجہ نویں سے بارہویں تک یہ کمی 17 لاکھ سے زائد رہی۔ تاہم، پری پرائمری سطح پر داخلوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پرائمری، اپر پرائمری اور ہائر سکینڈری اسکولوں میں طلبا داخلہ میں 37.45 لاکھ کی کمی درج کی گئی ہے۔ سال 24-2023 میں مجموعی داخلہ 24.80 کروڑ تھا۔ اس سے پہلے سال 23-2022 میں 25.17 کروڑ تو سال 22-2021 میں قریب 26.52 کروڑ تھا۔ اس طرح سال 23-2022 کے مقابلے میں سال 24-2023 میں اس اعداد و شمار میں 37.45 لاکھ کی کمی درج کی گئی ہے۔ حالانکہ فیصد میں یہ صرف 1.5 ہے۔ طلبا کی تعداد میں 16 لاکھ کی کمی جبکہ طالبات کی تعداد میں 21 لاکھ کی گراوٹ درج کی گئی ہے۔

حالانکہ افسروں نے واضح کیا ہے کہ اعداد و شمار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کچھ حقیقی تبدیلی دیکھی گئی ہے کیونکہ الگ الگ طلبا بنیاد بنائے رکھنے کی یہ قواعد 22-2021 یا اس سے پہلے کے سالوں سے الگ، انوکھی اور غیر موازنہ ہے۔

ایک سینئر افسر نے بتایا کہ انفرادی طلبا-وار اعداد و شمار تعلیمی نظام کے حقیقت پسندانہ اور زیادہ درست تصویرکو ظاہر کرتا ہے، جس کے تحت قومی سطح پر پہلی بار کوشش کی جا رہی ہے جو 22-2021 تک جمع کیے گئے اسکول-وار مربوط ڈیٹا سے الگ ہے۔ اس لیے ڈیٹا مختلف تعلیمی اشارات جیسے جی ای آر، این ای آر، ڈراپ آؤٹ شرحوں وغیرہ پر گزشتہ رپورٹوں سے سختی سے قابل موازنہ نہیں ہے۔

سواتنتر کمار سنگھ نے کہا کہ ابتدائی طور پر کچھ فضلے کو پیتھام پور کی فضلہ نپٹانے کی تنصیب میں جلا دیا جائے گا اور بعد میں باقیات کی جانچ کی جائے گی کہ آیا اس میں کوئی نقصان دہ مواد بچا ہوا ہے یا نہیں۔ ایک بار یہ تصدیق ہو جانے پر راکھ کو دو پرتوں کی تہہ سے ڈھک دیا جائے گا اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ یہ کسی بھی طرح سے زمین اور پانی کے ساتھ رابطے میں نہ آئے۔ اس عمل کی نگرانی مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ اور ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈ کے افسران کریں گے۔

کچھ مقامی کارکنوں نے 2015 میں پیتھام پور میں یونین کاربائیڈ کے فضلے کے جلانے کے تجربے کے بعد آس پاس کے گاؤں میں آلودگی کے الزامات لگائے تھے۔ تاہم سنگھ نے اس دعوے کو مسترد کردیا اور کہا کہ تمام ٹیسٹوں اور اعتراضات کی جانچ کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کچرے کا نپتانا پیتھام پور میں کیا جائے گا۔ انہوں نے مقامی لوگوں کو یقین دہانی کرائی کہ اس عمل میں کوئی حفاظتی خطرہ نہیں ہے۔ اس عمل کے خلاف 29 دسمبر کو پیتھام پور میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے تھے جن میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔


Share: