ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سنتوش دیشمکھ قتل کیس: عدالت نے تین ملزمان کو 18 جنوری تک سی آئی ڈی کی تحویل میں دے دیا

سنتوش دیشمکھ قتل کیس: عدالت نے تین ملزمان کو 18 جنوری تک سی آئی ڈی کی تحویل میں دے دیا

Sun, 05 Jan 2025 11:39:45    S.O. News Service

ممبئی، 5/جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی)مہاراشٹر کے بیڑ ضلع کی عدالت نے 9 دسمبر کو قتل ہونے والے سرپنچ سنتوش دیشمکھ کے قتل کے معاملے میں گرفتار تین ملزمان کو 14 دن کے لیے سی آئی ڈی کی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان تینوں ملزمان کو 18 جنوری تک سی آئی ڈی کے حوالے رکھا جائے گا تاکہ تحقیقات کی جا سکیں۔

سرپنچ سنتوش دیشمکھ کو اس وقت قتل کر دیا گیا تھا جب وہ بیڑ میں ایک ونڈ مل پروجیکٹ چلانے والی توانائی فرم پر تاوان وصولی کے خلاف آواز اٹھاکر اسےروکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس قتل میں مبینہ ملوث ملزمان سدرشن چندر بھان گھُلے (26)، سدھیر سانگلے (23) اور سدھارتھ سوناونے ہیں، جنہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا۔

ریاستی سی آئی ڈی کی خصوصی تفتیشی ٹیم نے گھُلے اور سانگلے کو پونے سے گرفتار کیا، جبکہ سوناونے کو تھانے ضلع کے کلیان سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ یہ تینوں ملزمین منظم جرائم میں ملوث ہیں اور ممکنہ طور پر وہ ان کمپنیوں کو دھمکیاں دینے میں ملوث ہیں جو اس علاقے میں مختلف ترقیاتی کاموں میں مشغول ہیں۔

پولیس نے یہ بھی بتایا کہ سوناونے نے گھُلے اور دیگر کو دیشمکھ کے مقام کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جس کی بنیاد پر یہ قتل کیا گیا تھا۔ دیشمکھ کے قتل سے جڑے جبری وصولی کے کیس میں بھی وشنو چٹے، سدرشن گھُلے اور والمک کراڈ کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس سے قبل، مہاراشٹر کے وزیر دھننجے منڈے کے قریبی ساتھی والمک کراڈ نے 31 دسمبر 2024 کو پونے میں مہاراشٹر کے بیڑ ضلع میں ایک سرپنچ کے قتل سے منسلک ایک معاملے میں کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کے سامنے خودسپردگی کر دی تھی۔

دیشمکھ کے قتل کے سلسلے میں اب تک گرفتار ہونے والے ملزمان میں سدرشن گھُلے، سدھیر سانگلے، پراتک گھُلے، وشنو چٹے، مہیش کیدار اور سدھارتھ سوناونے شامل ہیں، جبکہ کرشنا آندھالے ابھی تک فرار ہے۔


Share: