نئی دہلی ، 22/دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)ہندوستان میں گُڈس اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کو بہتر اور آسان بنانے کے لیے کام کرنے والے وزراء کے گروپ (جی او ایم) نے اپنی رپورٹ جی ایس ٹی کونسل کو پیش کرنے میں تاخیر کر دی ہے۔ یہ رپورٹ 148 مصنوعات پر ٹیکس کی شرح میں ممکنہ تبدیلی کی تجاویز فراہم کرتی ہے۔ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ اور جی او ایم کے کنویز سمراٹ چودھری نے بتایا کہ ’’رپورٹ اب کونسل کی آئندہ میٹنگ میں پیش کی جائے گی۔‘‘ اس رپورٹ میں مختلف ٹیکسٹائل، سائیکل اور دیگر مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح میں تبدیلی کے لیے سفارشات شامل ہیں۔
وزراء کے گروپ نے مختلف اشیاء پر شرحوں کو معقول اور مناسب بنانے کی سفارش کی ہے۔ نقصان دہ مشروبات اور تمباکو مصنوعات پر ٹیکس کی شرح 28 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جبکہ کپڑوں کے حوالے سے تجویز کی گئی ٹیکس کی نئی شرحیں ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں:
1500 روپے تک کے کپڑوں پر 5 فیصد جی ایس ٹی۔
1500 روپے سے 10000 روپے تک کے کپڑوں پر 18 فیصد جی ایس ٹی۔
10000 روپے سے زیادہ قیمت والے کپڑوں پر 28 فیصد جی ایس ٹی۔
ساتھ ہی 15000 روپے سے زیادہ کے جوتوں اور 25000 روپے سے زیادہ کے گھڑیوں پر ٹیکس کی شرح کو 18 فیصد سے بڑھا کر 28 فیصد تک کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
جی او ایم نے کچھ ضروری اشیاء پر ٹیکس کے بوجھ کو کم کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔ پیکڈ پینے کا پانی (20 لیٹر یا اس سے زیادہ) پر جی ایس ٹی کو 18 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 10000 روپے سے کم قیمت والی سائیکل اور ایکسرسائز نوٹ بُک پر بھی جی ایس ٹی کی شرح کو 12 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ جی ایس ٹی کا موجودہ ڈھانچہ 4 سلیب (5 فیصد، 12 فیصد، 18 فیصد اور 28 فیصد) پر مشتمل ہے۔ لگژری اور ڈی میرٹ اشیاء پر 28 فیصد ٹیکس لگایا جاتا ہے جبکہ ضروری اشیاء پر 5 فیصد ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ مجوزہ تبدیلیاں ٹیکس کے نظام کو آسان بنانے اور ریونیو بڑھانے کی جانب اٹھایا گیا ایک قدم ہے۔
ٹیکس کی شرح میں اضافے سے حکومت کو مزید ریونیو ملے گا لیکن اس سے زیادہ قیمتی اشیاء کی مانگ میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ضروری اشیاء پر ٹیکس کم کرنے سے عام لوگوں کو راحت ملنے کی امید ہے۔ حکومت کا یہ قدم ٹیکسٹائل اور ضروری اشیاء کی مارکیٹ میں مقابلے کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ واضح ہو کہ جی ایس ٹی کونسل کی اگلی میٹنگ میں ان ہی تجاویز پر غور و خوض کیا جائے گا۔ ساتھ ہی یہ دیکھا جائے گا کہ شرح ٹیکس میں کی گئی ان تبدیلیوں کو کس طرح نافذ کیا جائے گا اور ان کے معاشی و سماجی اثرات کیا مرتب ہوں گے۔
قابل ذکر ہے کہ جی ایس ٹی کونسل کی اس 55ویں میٹنگ میں کئی بڑے چہرے شامل رہے۔ ان میں وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے ساتھ ساتھ وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری، جموں و کشمیر، گوا، ہریانہ، اڈیشہ، میگھالیہ کے وزرائے اعلیٰ اور اروناچل پردیش، بہار، مدھیہ پردیش، تلنگانہ کے نائب وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ کئی ریاستوں کے وزرائے خزانہ، ریونیو سکریٹریز اور سی بی آئی سی کے چیئرمین بھی اس میٹنگ میں موجود رہے۔ نیز اس میٹنگ میں وزارت خزانہ کے کئی سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔