سری نگر ، 13/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ کانگریس کے الیکشن نہ لڑنے کے فیصلے کے بعد نیشنل کانفرنس چوتھی راجیہ سبھا نشست پر بھی اپنا امیدوار میدان میں اتارے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ الیکشن اس بات کا امتحان ہوگا کہ کون بی جے پی کے ساتھ ہے اور کون اس کے مخالف۔
سری نگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا، 'ہم نے اتحاد کے احترام میں کانگریس کو ایک سیٹ دی تھی، لیکن چونکہ انہوں نے الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، لہذا اب ہم چوتھی نشست پر بھی اپنا امیدوار کھڑا کریں گے۔'
عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ راجیہ سبھا انتخابات سے یہ واضح ہو جائے گا کہ کون واقعی سیکولر نظریے کے ساتھ ہے اور کون بی جے پی کے نظریے سے ہم آہنگ۔
ان کے مطابق بی جے پی کے پاس صرف 28 ممبران اسمبلی ہیں، جب کہ جیت کے لیے انہیں 32 ووٹ درکار ہیں۔ کوئی بھی ایم ایل اے اگر الیکشن میں حصہ نہیں لیتا تو وہ سیدھے طور پر بی جے پی کی مدد کر رہا ہے۔
بی جے پی کے تین نشستیں جیتنے کے دعوے پر طنز کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی صرف کراس ووٹنگ اور ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے ہی جیت حاصل کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو جیتنے کے لئے ووٹوں کی ضرورت ہے، لیکن ان کے پاس صرف 28 ارکان ہیں۔ اگر وہ تین سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کر رہے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ روپیوں اور ایجنسیوں کی طاقت پر انحصار کر رہے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر بی جے پی دباؤ، دھمکی اور خرید و فروخت کے ذریعے الیکشن جیتنا چاہتی ہے، تو وہ دراصل اُن الزامات کو درست ثابت کر رہی ہے جو دوسری ریاستوں میں ان کے خلاف لگائے جا رہے ہیں۔
فاروق عبداللہ کو راجیہ سبھا انتخابات کے لیے نامزد نہ کرنے کے حوالے سے جب وزیر اعلیٰ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے صاف الفاظ میں کہا،'کس کی مجال ہے کہ وہ فاروق صاحب کو الیکشن لڑنے سے روکے ؟
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے خود فیصلہ کیا ہے کہ وہ امیدوار کے طور پر میدان میں نہیں آئیں گے۔ وہ نیشنل کانفرنس کے سرپرست ہیں اور ان کا رول ہمارے لیے ہمیشہ رہنمائی کا ذریعہ رہے گا۔'
بڈگام سے ممکنہ امیدوار کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ابھی اس معاملے پر مشاورت جاری ہے اور حتمی فیصلہ وقت آنے پر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہر انتخاب سیاسی جماعتوں کے لیے ایک امتحان ہوتا ہے، اور نیشنل کانفرنس اس امتحان کا سامنا پوری قوت اور اتحاد کے ساتھ کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے آخر میں کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیتیں تو اس کا فائدہ صرف اور صرف بی جے پی کو پہنچے گا۔ہماری ترجیح یہ ہے کہ الیکشن صاف، شفاف اور اصولوں پر مبنی ہو۔ مگر اگر بی جے پی پیسے، دباؤ یا سازشوں سے جیتنا چاہتی ہے تو عوام سب دیکھ رہی ہے۔