نئی دہلی، یکم جنوری(ایس او نیوز/ایجنسی )کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے آئین کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت کے دور میں دلتوں، قبائلیوں، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ غریبوں اور محروموں کے ساتھ منواد کا ظلم بڑھتا جا رہا ہے۔ کھرگے نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں بابا صاحب امبیڈکر کی توہین کرتے ہیں، اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیر اقتدار ریاستوں میں عوام مخالف ذہنیت کو دہرا کر ناانصافیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
غریبوں اور پسماندہ لوگوں کے ساتھ حالیہ واقعات کی مثال دیتے ہوئے کھڑگے نے کہا "مدھیہ پردیش کے دیواس میں ایک دلت نوجوان کو پولیس حراست میں قتل کر دیا جاتا ہے اور اڈیشہ کے بالاسور میں قبائلی خواتین کو درختوں سے باندھ کر مارا جاتا ہے۔ ہریانہ کے بھیوانی میں ایک دلت طالب علم بی اے کے امتحان کی فیس ادا نہ کرنے کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے، جب کہ مہاراشٹر کے پال گھر میں ایک قبائلی حاملہ خاتون کو آئی سی یو کی تلاش میں 100 کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے اور اس کی موت ہو جاتی ہے۔ تین دلت خاندان مظفر نگر، اتر پردیش سے بھاگنے پر مجبور ہیں، کیونکہ انہیں ذات پات کی بنیاد پر حملوں کا سامنا ہے اور پولیس خاموش ہے۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ مودی سرکار کی آئین مخالف حکمرانی کے تحت دلتوں، قبائلیوں، پسماندہ اور اقلیتی طبقات کے خلاف مسلسل مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور غریب اور محروم طبقے کو منوازم کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔
کانگریس صدر کھڑگے نے کہا "دلتوں اور قبائلی خواتین اور بچوں کے خلاف ہر گھنٹے میں ایک جرم کیا جاتا ہے اور نیشنل کرائم بیورو کے مطابق یہ تعداد 2014 سے دگنی ہو گئی ہے۔" کانگریس پارٹی 140 کروڑ ہندوستانیوں کے آئینی حقوق کو پامال نہیں ہونے دے گی اور بی جے پی و آر ایس ایس کی آئین مخالف سوچ کا مقابلہ کرتی رہے گی۔