منیلا ، 14/ ستمبر (ایس او نیوز / ایجنسی) فلپائن کے مسلم اکثریتی جنوبی خطے بنگسامورو خود مختار علاقے میں پیر کے روز پہلی بار پارلیمانی انتخابات ہوئے۔ ان انتخابات کو کئی دہائیوں سے جاری شورش اور تشدد کے بعد خود حکمرانی کی جانے والی طویل اور مسلسل کوششوں میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اتوار کو تا باتو سٹی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ۳؍ افراد ہلاک اور ۱۵؍ زخمی ہوگئے، جس کے بعد شہر کا انتظام الیکشن کمیشن کے کنٹرول میں دے دیا گیا۔ کمیشن کے چیئرمین ایرون گارشیا نے بتایا کہ شہر کے لیے ایک منتظم مقرر کیا جائے گا۔ یہ اطلاع ایسوسی ایٹڈ پریس نے دی۔
اسی شہر میں ایک اور واقعے کے دوران ایک دیسی ساختہ بم پھٹ گیا، جس سے دھماکا خیز مواد لے جانے والا شخص زخمی ہوگیا۔ ایک مقام پر فائرنگ بھی ہوئی، تاہم اس میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔
باسی لان کے علاقے میں واقع قصبے مالوسو کو بھی الیکشن کمیشن کے کنٹرول میں دے دیا گیا، جہاں ۶۸؍ میں سے ۳۶؍ پولنگ مراکز میں پہلے سے نشان زد بیلٹ پیپرز ملے تھے۔ گارشیا کے مطابق معاملہ سامنے آتے ہی متاثرہ پولنگ مراکز کے لیے نئے بیلٹ پیپرز چھاپنے کا حکم دے دیا گیا۔
انتخابات کے دوران سکیورٹی کیلئے ۲۰؍ ہزار سے زائد فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ بھاری ہتھیاروں سے لیس اہلکار سڑکوں پر گشت کرتے رہے۔
ان انتخابات میں پارلیمنٹ کی ۸۰؍ نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ بنگسامورو خطے میں ۵؍ صوبے، ۳؍ شہر اور ۶۳؍ قصبے شامل ہیں، جہاں تقریباً ۲۴؍ لاکھ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ انتخابی حکام نے توقع ظاہر کی کہ ووٹنگ کا تناسب ۸۰؍ فیصد تک رہ سکتا ہے۔
خطے میں پارلیمانی انتخابات کئی برس تک ملتوی کیے جاتے رہے تھے۔ ہبنگسامورو کے وزیرِاعلیٰ، جو خطے کی انتظامی حکومت کے سربراہ ہیں، کا انتخاب پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں ارکانِ پارلیمنٹ کریں گے۔