ممبئی، 31 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی) 2008مالیگاؤں دھماکہ معاملے میں ملزمین کی رہائی کے فیصلے پرآل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھ نمازیوں کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا تھا اور یہ سب جان بوجھ کر اور ناقص تفتیش و استغاثہ کا نتیجہ ہے۔ اویسی نے سوال اٹھایا کہ کیا مرکز اور مہاراشٹرا حکومتیں اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کریں گی؟ انہوں نے این آئی اے کی سابق اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر روہنی سالیان کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ انہیں ملزمین کے خلاف نرم رویہ اختیار کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
اویسی نے سابق اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے کو بھی یاد کیا، جنہوں نے اس سازش کا پردہ فاش کیا تھا لیکن 26/11 ممبئی حملوں میں شہید ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں سے انصاف کی امید اب بھی باقی ہے، لیکن جب حکومتیں ملزمین کو ایم پی بنائیں گی تو سسٹم پر سوالات اٹھیں گے۔