نئی دہلی ، 2/ دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوسرے دن بھی انتخابی فہرست کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر ) کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج جاری رہا۔ سونیا گاندھی، راہل گاندھی کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور پرینکا گاندھی سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں کے اراکینِ پارلیمنٹ نے ’مکر دوار ‘ کے باہر جمع ہو کر اس کارروائی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ایس آئی آڑ کے جاری عمل پر فوری طور پر پارلیمنٹ میں مفصل بحث کرائی جائے، کیونکہ یہ براہِ راست شہریوں کے حقِ رائے دہی سے متعلق ہے۔
خیال رہے کہ سرمائی اجلاس کے پہلے دن پیر کے روز اپوزیشن نے ایس آئی آر پر پر بحث نہ ہونے پر شدید احتجاج کیا، جس کے سبب لوک سبھا کی کارروائی کئی مرتبہ ملتوی ہوئی۔ اجلاس کے دوسرے دن بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور ہنگامہ آرائی کے سبب لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ 12 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں چلائی جا رہی خصوصی گہری نظرثانی میں بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام حذف کیے جا رہے ہیں، جس سے انتخابی شفافیت اور عوامی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔
دریں اثنا، کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ منیکم ٹیگور نے کہا کہ انڈیا اتحاد نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ ایس آئی آر اور انتخابی اصلاحات کے معاملے پر بحث ضروری ہے۔ ان کے مطابق، ’’ہم نے اس عمل کے خلاف پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایوان میں فوری طور پر بحث کرائی جائے۔ ووٹ کا حق خطرے میں ہے۔ بہار میں 62 لاکھ ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ بہت سے بی ایل اوز نے دباؤ کی وجہ سے خودکشی تک کر لی ہے۔ یہ جمہوریت کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔‘‘
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جب تک ایس آئی آر پر وضاحت اور بحث نہیں ہوتی، احتجاج جاری رہے گا۔ اس معاملے پر سیاسی درجۂ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے اور اجلاس کے آئندہ دنوں میں ایوان کی کارروائی متاثر ہونے کا امکان ہے۔