نئی دہلی، 23/دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب ہائی کورٹ کے فیصلے کو نافذ کرنے سے بچنے کے لیے اچانک ضوابط میں کی جانے والی تبدیلی پر اپوزیشن نے سخت اعتراض کیا ہے، جس کے تحت الیکشن سے متعلق دستاویزات اور مشمولات تک عوامی رسائی محدود کر دی گئی ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے اس تبدیلی کو ایک منصوبہ بندی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد الیکشن کمیشن کی ادارہ جاتی سالمیت، ساکھ اور خود مختاری کو نقصان پہنچانا ہے۔
کھرگے نے کہاکہ پہلے حکومت نے چیف جسٹس آف انڈیا کو اس کمیٹی سے ہٹادیا جو الیکشن کمشنروں کی تقرری کرتی ہے اور اب ہائی کورٹ کے حکم کےباوجود معلومات کی فراہمی کو روکنے کیلئے ضابطہ میں ترمیم کا سہارا لیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ جب بھی کانگریس پارٹی نے مخصوص انتخابی بے ضابطگیوں جیسے ووٹروں کے نام حذف کرنے اور ای وی ایم میں شفافیت کی کمی کے بارے میں الیکشن کمیشن کو لکھا، اس نے رعونت سے جواب دیا اور بعض سنگین شکایات کو بھی تسلیم نہیں کیا۔ کانگریس صدر نے کہا کہ گرچہ الیکشن کمیشن آف انڈیا ایک نیم عدالتی ادارہ ہے، لیکن اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ آزادانہ طور پر کام نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مودی حکومت کے ذریعہ الیکشن کمیشن کی سالمیت اور ساکھ کو نقصان پہنچانا آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے اور ہم اس کی حفاظت کیلئےہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔
سی پی آئی (ایم) کے پولٹ بیورو نے بھی مجوزہ ترامیم پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اس ترمیم کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ سی پی آئی کے لیڈر ڈی راجہ نے کہاکہ’’یہ حکومت جمہوری طریقے سے کام کرنےپر یقین نہیں رکھتی۔ ‘‘