ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / نیپال میں قومی غم، تباہ کن سانحے میں ہلاکتیں 1350 تک پہنچ گئیں؛ 5 ہزار سے زائد لاپتہ

نیپال میں قومی غم، تباہ کن سانحے میں ہلاکتیں 1350 تک پہنچ گئیں؛ 5 ہزار سے زائد لاپتہ

Mon, 07 Sep 2026 17:45:14    S O News

کھٹمنڈو، 7/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)نیپال میں 26 اگست کو آئے تباہناک سیلاب نے اب تک تقریباً 1350 جانیں لے لی ہیں، اور تقریباً 5 ہزار افراد اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ اس سیلاب کے 13 دنوں بعد بھی مختلف علاقوں میں ریسکیو مہم جاری ہے اور ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اس درمیان آج سیلاب کی تباہی کے تیرہویں دن نیپال میں ’قومی غم‘ منایا جا رہا ہے۔ نیپال حکومت نے سیلاب کے بعد ہوئی ہلاکتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ 7 ستمبر کو یومِ غم منایا جائے گا اور مہلوکین کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔

نیپال حکومت کے ذریعہ 7 ستمبر کو قومی غم کا دن قرار دیے جانے کو پیش نظر رکھتے ہوئے سرکاری دفاتر سے لے کر بیرون ملک موجود نیپالی سفارت خانوں تک قومی پرچم سرنگوں کر دیا گیا ہے۔ یہ دن سیلاب کے 13ویں روز رکھا گیا ہے کیونکہ ہندو روایت میں کسی کی موت کے بعد 13واں دن سوگ سے وابستہ ایک اہم وقت مانا جاتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 26 اگست کو چین کی سرحد سے متصل رَسوا علاقے میں بلند ہمالیہ پر برف اور چٹانوں کے کھسکنے کے بعد اچانک ’فلیش فلڈ‘ آ گیا تھا۔ اس کا اثر رَسوا کے ساتھ نواکوٹ، دھادینگ سمیت کئی علاقوں میں پڑا۔ بھوٹے کوشی اور تریشولی ندی کے اطراف سیلاب نے شدید تباہی مچائی۔ اس کے نتیجے میں کئی گھر بہہ گئے، سڑکیں ٹوٹ گئیں اور پلوں کو نقصان پہنچا۔ ہائیڈرو پاور پروجیکٹس، سرکاری عمارتوں سمیت ضروری بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ اس آفت سے کم از کم 32 ہزار خاندان بے گھر ہوئے ہیں اور تقریباً 7,500 گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

سب سے بڑی تشویش ان 5,000 لوگوں سے متعلق ہے، جن کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ ان میں 589 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ امدادی ٹیموں کا کام ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ کئی مقامات پر ملبے میں زندگی کی تلاش جاری ہے۔ اس کے علاوہ ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی سرنگوں میں پھنسے لوگوں کو تلاش کرنے پر بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ نیپالی سیکورٹی فورسز کے ساتھ دوسرے ممالک سے آنے والی ماہر ٹیمیں بھی اس کام میں مصروف ہیں۔ ہندوستان سے نیپال پہنچی ماہرین کی ٹیم بھی مشکل حالات میں ریسکیو مہم جاری رکھے ہوئی ہے۔

اتراکھنڈ کے سلکیارا سرنگ حادثے میں 41 مزدوروں کو بحفاظت نکالنے والے پروفیسر آرنلڈ ڈکس نے نیپال میں جاری بچاؤ مہم سے متعلق سوشل میڈیا پر اپنی بات رکھی۔ انہوں نے کہا کہ نیپال میں اس وقت ایک نہیں بلکہ مختلف مقامات پر کئی ممکنہ ریسکیو آپریشن بیک وقت چل رہے ہیں۔ ہر جگہ خطرات الگ ہیں، اس لیے ہر مہم اپنے آپ میں ایک چیلنج ہے۔ ڈکس نے سلکیارا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم نے انہیں سکھایا کہ مشکل کام کو ناممکن نہیں سمجھنا چاہیے۔ نیپال میں بھی کئی زندگیاں بچانے کی کوشش جاری ہے۔ ان کے مطابق ایسے وقت میں امید کو صرف ایک جذبہ نہیں بلکہ مسلسل کام میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

بہرحال، پیر کے روز جہاں نیپال میں سیلاب میں جان گنوانے والوں کو یاد کیا جا رہا ہے، وہیں اس کے اگلے دن یعنی 8 ستمبر کو ملک میں سرکاری تعطیل رہے گی۔ یہ چھٹی ’جین-زی شہید دیوس‘ کے موقع پر رکھی گئی ہے۔ دراصل گزشتہ سال اسی تاریخ کو کاٹھمنڈو میں جین-زی کی قیادت میں مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ تحریک کے دوران سیکورٹی فورسز کی فائرنگ میں 72 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد اس وقت کی حکومت بحران میں آ گئی تھی۔ ایک سال بعد نیپال کے سامنے ایک ساتھ 2 مختلف واقعات کی یاد ہے، ایک طرف سیلاب میں جان گنوانے والوں کا سوگ، تو دوسری طرف گزشتہ سال کی تحریک میں مارے گئے لوگوں کو خراجِ عقیدت۔


Share: