بھوپال، 25/دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں لوک آیکت کی چھاپہ ماری کے دوران سابق کانسٹیبل سوربھ شرما کی غیر قانونی دولت کے حوالے سے دلچسپ انکشافات ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، سوربھ شرما نے اپنی غیر قانونی آمدنی کو نقد رقم کے بجائے قیمتی دھاتوں جیسے سونے اور چاندی میں تبدیل کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا مقصد نہ صرف اپنی دولت کو محفوظ رکھنا تھا بلکہ اس سے زیادہ منافع حاصل کرنا بھی تھا۔
تفتیش میں یہ بھی پتہ چلا کہ نقدی کو طویل عرصے تک رکھنے پر خراب ہونے یا چوہوں کے نقصان کا خدشہ سوربھ شرما کو پریشان کرتا تھا۔ اس نے سونے اور چاندی کی اینٹیں بنوا کر میکنگ چارج سے بھی بچنے کی کوشش کی۔
18 اور 19 دسمبر کو کی گئی چھاپہ ماری میں 7.98 کروڑ روپے کی جائیداد برآمد ہوئی جس میں 2.87 کروڑ روپے نقد اور 234 کلو چاندی شامل ہے۔ لوکایکت پولیس کے ڈی جی جے دیپ پرساد نے انکشاف کیا کہ سوربھ شرما نے بدعنوانی سے حاصل کی گئی رقم سے نہ صرف چاندی اور سونا خریدا بلکہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے نام پر اسکول اور ہوٹل بھی قائم کیے۔
سوربھ کو 2015 میں والد کی وفات کے بعد محکمہ ٹرانسپورٹ میں ملازمت دی گئی تھی، جہاں اس نے مبینہ طور پر ناجائز طریقوں سے بھاری دولت اکٹھی کی۔ لوکایکت کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید انکشافات کا امکان ہے۔
سوربھ شرما کے معاملے میں مزید تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس نے اپنے قریبی ساتھیوں، خاص طور پر چیتن سنگھ گوڑ اور شرد جیسوال کے ذریعے بھی غیر قانونی اثاثے جمع کیے۔
لوکایکت حکام نے ان ساتھیوں کے ٹھکانوں سے بھی بڑی مقدار میں نقدی، سونا اور زمین کے کاغذات برآمد کیے ہیں۔ ان دستاویزات کی بنیاد پر مزید جائیدادوں کا پتا لگایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق، شرما نے اپنی غیر قانونی آمدنی کو خاندان اور دوستوں کے نام پر مختلف کاروباروں میں لگایا، جن میں اسکول اور ہوٹل شامل ہیں، تاکہ اپنی دولت کو چھپایا جا سکے اور اسے قانونی دکھایا جا سکے۔