نئی دہلی ، 4/جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی) سپریم کورٹ نے 3 جنوری کو خالی میڈیکل سیٹوں کے بارے میں ایک اہم تبصرہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ میڈیکل کورس کی سیٹیں کسی صورت خالی نہیں رہنی چاہئیں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ریاستوں اور دیگر متعلقہ فریقین سے بات کرے اور اس سلسلے میں تشکیل کمیٹی کی سفارشات پر غور کرے۔ اس معاملے کی سماعت جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس کے وی وشوناتھن کی بنچ کر رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اپریل 2023 میں سپریم کورٹ نے میڈیکل کورس میں سپر اسپیشلٹی سیٹوں کے خالی رہنے کا ایشو اٹھایا تھا۔ اس وقت مرکزی حکومت نے اس معاملے کو سلجھانے کے لیے طبی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل کی صدارت میں ریاستوں اور پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کے نمائندوں سمیت سبھی اسٹیک ہولڈرس کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز رکھی تھی۔
مرکزی حکومت کی طرف سے موجود وکیل نے عدالت کو جانکاری دی کہ متعلقہ فریقین کی کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے۔ اس نے اس معاملے پر اپنی سفارشات دی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ مناسب ہوگا اگر مرکزی حکومت سبھی فریقین کے ساتھ میٹنگ کر ایک ٹھوس تجویز سامنے لائے۔ اس کے بعد بنچ نے مرکز کو ہدایت دی کہ وہ متعلقہ فریقین کے ساتھ میٹنگ کرے۔ عدالت نے 3 ماہ کے اندر اس کام کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے کہا ہے اور آئندہ سماعت اپریل ماہ میں کرنے کی جانکاری دی ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 2023 میں کہا تھا کہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور مایوس کن حالات کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ 1003 اہم سپر اسپیشلٹی سیٹیں بے کار جا رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان سیٹوں کے لیے کوئی داخلہ نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے کہا تھا کہ ایک طرف جہاں سپر اسپیشلٹی ڈاکٹروں کی ہمیشہ کمی رہتی ہے، وہیں دوسری طرف یہ اہم سیٹیں خالی رہ جاتی ہیں۔