منگلورو 29 / مئی (ایس او نیوز) دکشن کنڑا میں اقلیتی نوجوانوں کو نشانہ بنا کر فرقہ پرست شرپسندوں کی جانب سے ہو رہے جان لیوا حملوں میں اضافہ اور اس پر قابو پانے میں محکمہ پولیس اور ریاستی حکومت کی ناکامی کے خلاف احتجاج کے طور پر اقلیتی لیڈروں نے ایک ساتھ بڑے پیمانے پر کانگریس پارٹی سے استعفیٰ دینے کا جو منصوبہ بنایا تھا اس پر تبادلہ خیال کے لئے بلائی گئی افراتفری اور کشیدگی کا شکار ہوگئی ۔
آج دوپہر کے وقت منعقدہ کانگریس پارٹی کے اقلیتی سیل کی میٹنگ میں درپیش حالات سے ناراض کانگریس پارٹی کے سرگرم کارکنوں کی بڑی تعداد میں شریک ہوئی ۔ کانگریس اقلیتی سیل کے صدر شاہ الحمید جنہوں نے بڑے پیمانے پر پارٹی سے استعفیٰ کی تحریک چلانے کا وعدہ کیا تھا، جب اس میٹنگ کے دوران حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ضلع کی موجودہ صورتحال پر اپنی گہری مایوسی کرنے کے بعد کہا کہ وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ذاتی طور پر ان سے رابطہ کیا ہے، ان پر زور دیا ہے کہ وہ استعفیٰ دینے سے گریز کریں اور حکومت کو ان کے خدشات دور کرنے کے لیے ایک ہفتہ کی مہلت دیں ۔
اس بات پر وہاں پر جمع ہونے والے پارٹی کارکنوں میں شکوک پیدا ہوئے کہ شاہ الحمید اپنا فیصلہ واپس لے سکتے ہیں ۔ کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب کارکنوں نے نعرے بازی شروع کر دی اور فوری طور پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ۔ جس کی وجہ سے اجلاس افراتفری اور شور و غل کا شکار ہو گیا۔
ہجوم کو پرسکون کرنے کے لیے اقلیتی سیل کے رہنماؤں کی کوششوں کے باوجود، مشتعل شرکاء احتجاج کی شکل میں بڑے پیمانے پر استعفیٰ دینے پر اصرار کرتے رہے ۔ میٹنگ ہال میں جمع افراد کے ذریعے انصاف اور فیصلہ کن کارروائی کے مطالبات گونجنے لگے ۔
شاہ الحمید نےاپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا، "ہم اپنے استعفیٰ کے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں" اور باضابطہ طور پر کانگریس ضلع اقلیتی سیل کے صدر کے عہدے سے اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا ۔
ان کی پہل کے ساتھ ہی کانگریس قائدین عبدالرؤف اور ایم ایس محمد نے بھی استعفیٰ دے دیا اور بڑے پیمانے پر استعفیٰ دینے تحریک میں شامل ہوگئے ۔
یہ پیش رفت فرقہ وارانہ کشیدگی کے پس منظر اور دکشن کنڑ میں فرقہ وارانہ قتل سمیت متعدد پرتشدد واقعات کے درمیان ہوئی ہے۔ اقلیتی طبقے کی شکایت ہے کہ ان کے رہنماؤں کی بار بار کی اپیلوں کے باوجود ریاستی حکومت کی جانب سے اپنائی گئی بے عملی نے اقلیتی طبقے میں عدم اطمینان کو ہوا دی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس ناراضی اور بے اطمینانی نے کانگریس پارٹی کے دکشن کنڑا اقلیتی ونگ کے اندر ایک وسیع تر بحران کو جنم دیا ہے ۔