منگلورو ، 14 / جون (ایس او نیوز) ریاست کے ساحلی علاقوں میں امن و سلامتی کے ماحول کو مستحکم کرنے کے مقصد سے تشکیل شدہ 'اسپیشل ایکشن فورس' (ایس اے ایف) کا افتتاح ریاستی وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور کے ہاتھوں عمل میں آیا ۔
ملک میں اس طرح کی فورس قائم کرنے کا اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے جو ریاست کرناٹک میں کیا گیا ہے ۔ اس فورس کا دائرہ عمل دکشن کنڑا، اڈپی اور شیموگہ کے اضلاع تک محدود رہے گا ۔ یہ نو شکیل شدہ فورس جملہ 278 اہلکاروں اور افسران پر مشتمل ہے ۔ اس کی تین کممپنیاں تین اضلاع کے لئے مختص ہوںگی جس میں سے ہر ایک کمپنی 78 اہلکاروں پر مشتمل ہوگی ۔
خیال رہے کہ ایس اے ایف میں ڈی آئی جی پی، ایس، ڈی وائی ایس پی، اسسٹنٹ کمانڈنٹ سمیت پی آئی، آر پی آئی، پی ایس آئی، ایس آئی، سی ایچ سی، سی پی سی، اے پی سی جیسے عہدوں کے رینک اور مرتبے والے افسران شامل ہیں ۔ جو عوامی امن و امان کی بحالی کے لئے ایک اہم سسٹم ثابت ہونگے ۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف امن و تحفظ کو مستحکم کرے گا بلکہ دیگر ریاستوں کے لئے ایک ماڈل ثابت ہوگا ۔ انہوں نے کہا : گزشتہ مرتبہ اپنے دورے کے موقع پر یہاں کلدیپ جین پولیس کمشنر تھے تو میں نے فرقہ پرستی مخالف ونگ قائم کرنے کی تجویز کا اعلان کیا تھا ۔ حالانکہ کلدیپ جین نے ایک حد تک یہاں کے حالات پر قابو پا لیا تھا، اس کے باوجود فرقہ وارانہ نفرت بڑھتی جا رہی ہے جو ضلع کے امن و ہم آہنگی کے لئے خطرہ بن گئی ہے اور اس کے دوسروں تک پھیلنے کے بھی قوی آثار ہیں ۔ اسی وجہ سے ہم نے اسپیشل ایکشن فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا تا کہ فرقہ وارانہ نفرت پر لگام کسی جا سکے اور ضلع کے اندر امن بحال کیا جائے ۔
ڈاکٹر پرمیشور نے بتایا کہ "ہم نے اینٹی نکسل فورس کی طرز اسپیشل ایکشن فورس بنائی ہے ۔ اس کی پہلی ذمہ داری ضلع میں امن بحال کرنا ہے ۔ اس سے پہلے ہم نے امن و ہم آہنگی کو بڑھاوا دینے کے لئے کچھ نرم رویہ اختیار کیا تھا ۔ بدقسمتی سے کچھ عناصر ان کوششوں پر راضی نہیں ہوئے ، جس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا براہ راست سامنا کرنے کے لئے اسپیشل ایکشن فورس تشکیل دینی پڑی ۔"
انہوں نے کہا کہ عوام کو اس ضمن میں تعاون کرنا چاہیے ۔ کیونکہ کم کشیدگی اور تصادم کا مطلب اسپیشل فورس کے لئے کام بھی کم ہوگا ۔ فی الحال اسے تین اضلاع کے لئے رکھا گیا ہے، مگر ضرورت پڑنے پر اس میں توسیع بھی ہو سکتی ہے ۔
اس موقع پر موجود ڈسٹرکٹ انچارج وزیر دنیش گنڈو راو نے کہا " فرقہ وارانہ نفرت ضلع کے لئے ایک کالا دھبہ ہے ، جو یہاں کے امن کے ماحول کو خراب کر رہا ہے ۔ اس کے باوجود تقریباً 95% آبادی اسپیشل ایکشن فورس کے قیام کو بخوشی قبول کرے گی ۔ آنے والے دس تا پندرہ دن کے اندر وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور کی قیادت میں پیس میٹنگ منعقد کی جائے گی ۔"
اس تقریب کے موقع پر وزیر داخلہ نے منگلورو اور بیلتنگڈی میں 21 کروڑ روپوں کی لاگت سے تعمیر شدہ پولیس کوارٹرز کی نئی عمارتوں کا بھی افتتاح کیا ۔
افتتاحی تقریب میں ڈی جی/ آئی جی پی ایم اے سلیم، آئی جی پی ویسٹرن رینج امیت سنگھ، منگلورو پولیس کمشنر سدھیر کمار ریڈی، دکشن کنڑا ایس پی ڈاکٹر ارون کمار، ایم ایل سی ایوان ڈیسوزا، ایم ایل سی منجو ناتھ بھنڈاری ، ڈپٹی کمشنر مولئی موہیلن اور دیگر معززین موجود تھے ۔