جلگاؤں، یکم جنوری(ایس او نیوز/ایجنسی )مہاراشٹر کے جلگاؤں ضلع کے پلادھی گاؤں میں منگل کی رات دو گروپوں کے درمیان تنازع نے پرتشدد شکل اختیار کر لی۔ یہ جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب شیوسینا کے وزیر گلاب راؤ پاٹل کے خاندان کو لے جانے والی گاڑی کا ہارن بجانے پر مقامی افراد نے اعتراض کیا۔ یہ چھوٹا سا تنازع جلد ہی کشیدگی میں بدل گیا اور حالات اس حد تک بڑھ گئے کہ دونوں گروپوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
جھڑپ کے دوران مشتعل افراد نے پتھراؤ کیا اور دکانوں کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی۔ حالات قابو سے باہر ہوتے دیکھ کر پولیس نے فوری مداخلت کی اور کئی مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ پولیس کے مطابق اب تک 20 سے 25 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور 10 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جلگاؤں کے کئی علاقوں میں کشیدگی کے پیش نظر بدھ کی شام تک کرفیو نافذ کر دیا گیا۔
ایس پی جلگاؤں، کویتا نیرکر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ امن و امان کو برقرار رکھیں اور قانون کے دائرے میں رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے اور جو بھی قصوروار پایا گیا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
پچھلے مہینے بھی مہاراشٹر کے پربھنی شہر میں ایسے ہی ایک واقعے میں کشیدگی دیکھی گئی تھی جب بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے کے قریب رکھی گئی آئین کی نقل کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں وسیع پیمانے پر مظاہرے اور پرتشدد واقعات دیکھنے کو ملے۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس سوریا کانت اور جسٹس سدھانشو دھولیا کی تعطیلاتی بینچ نے منگل کو پنجاب حکومت کی درخواست پر غور کیا جس میں 20 دسمبر کے حکم کی تعمیل کے لیے تین دن کی اضافی مہلت طلب کی گئی تھی۔ اس حکم میں ڈلیوال کو اسپتال میں داخل کرنے کی ذمہ داری پنجاب کے عہدیداروں اور ڈاکٹروں کو دی گئی تھی۔