ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / غیر ملکی قرار دیے گئے 27 افراد کو سپریم کورٹ سے ریلیف، فیصلہ کالعدم

غیر ملکی قرار دیے گئے 27 افراد کو سپریم کورٹ سے ریلیف، فیصلہ کالعدم

Tue, 14 Jul 2026 11:30:49    S O News

نئی دہلی، 14/ جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)ایسے وقت میں جبکہ ملک بھر میں ایس آئی آر کے تحت شہریوں سے ان کی شہریت کا ثبوت طلب کیا جارہاہے اور آسام جیسی ریاستوں میں لوگوں کو ’’غیر ملکی ‘‘ ہونے کے شبہ میں سرحد پر لے جاکر اُس طرف دھکیل دینے (پُش بیک)کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے، پیر کو سپریم کورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ شہریت اور غیر ملکی ہونے کا تعین ’’منصفانہ، قانونی اور معقول‘‘طریقہ کار کے تحت ہونا چاہیے۔  اس کے ساتھ ہی عدالت نےآسام کے  اُن   ۲۷؍ افراد کو غیر ملکی قرار دینے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جنہیں  ٹربیونل میں پیش ہوکر اپنی شہریت ثابت کرنے کا موقع نہیں ملا۔

مذکورہ افراد کو ’’فارینرس  اپیلیٹ ٹربیونل‘‘  نے نوٹس جاری ہونے کے باوجود پیش نہ ہونے پریکطرفہ طورپر غیر ملکی قرار  دے دیاتھا اور گوہاٹی ہائی کورٹ نےا س پر مہر ثبت کردی تھی۔   مذکورہ ۲۷؍ افراد کی اپیل پر سپریم کورٹ میں   جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نےغیر ملکی قرار دینے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے  ان  کے مقدمات کو دوبارہ سماعت کیلئے متعلقہ فارنرس ٹریبونلز  کے پاس  واپس بھیج دیا۔ عدالت نے کہا کہ شہریت کا معاملہ انتہائی اہم آئینی اور قانونی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس کا فیصلہ انصاف کے  تمام  تقاضوں کوپورا کرتے ہوئے ہونا چاہیے۔حالانکہ عدالت نے  ریاستی حکومت  کے اس موقف سے اتفاق کیا کہ جو افراد قانونی طور پر ہندوستانی  شہریت کے حقدار نہیں ہیں،  انہیں جھوٹے دعوؤں، قانونی عمل کے غلط استعمال یا تاخیر کا فائدہ اٹھا کر شہریت حاصل کرنے کا موقع نہین ملنا چاہئے  تاہم  واضح کیا کہ یہ مقصد انصاف پر مبنی قانونی عمل کی قیمت پر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

یاد رہے کہ ایک اہم مقدمے میں گوہاٹی ہائی کورٹ نے فارینرس ٹریبونل کے یکطرفہ فیصلے کے خلاف داخل کی گئی درخواست کو صرف اس لئے مسترد کردیا کہ یہ درخواست ۲۳؍ سال بعد داخل کی گئی ہے۔ اس معاملے میں  جن افراد کی شہریت مشکوک تھی ،انہیں نوٹس دیکر ٹربیونل میں پیش ہونے اور اپنی شہریت کا ثبوت دینے کی ہدایت دی گئی تھی  تاہم یہ لوگ پیش نہیں ہوسکے جس کے بعد ٹربیونل نے ان کے دلائل سنے بغیر ہی  ان کے غیر ملکی ہونے کافیصلہ سنا دیا۔ عرضی خارج کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ نوٹس کی باقاعدہ تعمیل کے باوجود درخواست گزار ٹریبونل کے سامنے پیش نہیں ہوئے اور تقریباً۲۳؍ سال بعد ٹربیونل کے فیصلے کو چیلنج کر رہے ہیں۔ عدالت کے مطابق چونکہ درخواست گزاروں نے نہ کوئی تحریری جواب دیا، نہ دستاویزات پیش کئے اور نہ کوئی ثبوت، اس لیے ٹریبونل کے پاس  ان کے خلاف  دی گئی درخواست کو درست قرار دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگرچہ فارینرس ایکٹ کے تحت سماعت  محض رسمی عمل نہیں ہونا  چاہیے اور ہر شخص کو اپنی  شہریت ثابت کرنے کا مناسب موقع ملنا چاہیے، لیکن اس موقع غیر معینہ مدت کیلئے نہیں دیا جاسکتا۔ ہائی کورٹ نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزاروں کو کئی مواقع دیئے  گئے لیکن انہوں نے  فائدہ نہیں اٹھایا۔ بہرحال سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے  عرضی گزاروں کو ایک بار پھر ٹروبیونل میں پیش ہونے اوراپنے ہندوستانی ہونے کے شواہد  پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔


Share: