ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ایل پی جی بحران کا اثر؛ فوڈ ڈیلیوری ورکرز کی روزی متاثر، لاکھوں خاندان پریشان

ایل پی جی بحران کا اثر؛ فوڈ ڈیلیوری ورکرز کی روزی متاثر، لاکھوں خاندان پریشان

Sun, 15 Mar 2026 11:54:39    S O News

نئی دہلی  ، 15/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی ایل پی جی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کا براہ راست اثر ہندوستان کے فوڈ ڈیلیوری اور گِگ ورکرس پر پڑ رہا ہے۔ گِگ اینڈ پلیٹ فارم سروس ورکرس یونین (جی آئی پی ایس ڈبلیو یو) نے پونے سے جاری پریس ریلیز میں وارننگ دی ہے کہ زومیٹو اور سویگی جیسے پلیٹ فارم پر فوڈ آرڈر 60-50 فیصد تک کم ہو گئے ہیں۔ ریسٹورنٹ، ڈھابے، کلاؤڈ کچن، کیٹرنگ سروسز اور اسٹریٹ وینڈرس کمرشیل ایل پی جی سلنڈر نہ ملنے کی وجہ سے بند ہو رہے ہیں یا محدود پیمانے پر کام کر رہے ہیں۔

یونین کے نیشنل کوآرڈینیٹر نرمل گورانا نے کہا کہ ہمارے ممبران بھوکے مر رہے ہیں۔ سینکڑوں ورکرس نے ہم سے رابطہ کیا ہے، خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہیں، بچے بھوکے سو رہے ہیں۔ دہلی کے ایک ڈیلیوری ورکر اور 2 بچوں کے والد نے بتایا کہ پہلے روزانہ 30 ڈیلیوری ہوتی تھیں اور اب 10-5 بھی نہیں ہے۔ پلیٹ فارم اب آئی ڈی ڈی ایکٹیویٹ کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ یہ بحران رائیڈ-ہیلنگ اور فوڈ ڈیلیوری دونوں کو متاثر کر رہا ہے۔

یونین کا اندازہ ہے کہ تقریباً ایک کروڑ ورکرس اس مشکل سے نبرد آزما ہیں، جس میں گِگ اور پلیٹ فارم ورکرس کی بڑی تعداد شامل ہے۔ یہ لوگ کسی مقررہ تنخواہ یا سماجی تحفظ کے بغیر کام کرتے ہیں، اس لیے کوئی بھی بیرونی مسئلہ براہ راست ان کی ملازمت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پلیٹ فارمز کو آرڈر کم ہونے کی سزا ورکرس کو نہیں ملنی چاہیے، بلکہ انہیں تحفظ اور معاوضہ ملنا چاہیے۔

گِگ اینڈ پلیٹ فارم سروس ورکس یونین (جی آئی پی ایس ڈبلیو یو) نے مرکزی وزیر محنت کو خط لکھ کر فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جو درجہ ذیل ہیں:

  • وزارت پیٹرولیم 24 گھنٹے کمرشیل ایل پی جی کی سپلائی کو یقینی بنائے، تاکہ فوڈ بزنس چل سکیں۔

  • زومیٹو، سویگی اور دیگر پلیٹ فارمز متاثرہ ورکرس کو 10000 روپے کی فوری مالی امداد فراہم کریں۔

  • 3 ماہ تک آئی ڈی ڈی ایکٹیویشن پر روک لگائی جائے اور کم از کم یومیہ انسینٹیو دیے جائیں۔

  • 2020 کے ’کوڈ آن سوشل سیکورٹی‘ کے تحت تمام گِگ ورکرس کو مکمل کوریج فراہم کی جائے۔


Share: