ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں ایس آئی آر 2026 پر ہری پرساد کے سوالات، انتخابی فہرست کے اعداد و شمار کی اسمبلی حلقہ وار جانچ کا مطالبہ

کرناٹک میں ایس آئی آر 2026 پر ہری پرساد کے سوالات، انتخابی فہرست کے اعداد و شمار کی اسمبلی حلقہ وار جانچ کا مطالبہ

Sat, 19 Sep 2026 12:13:55    S O News

بنگلورو، 19/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی ) کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بی کے ہری پرساد نے خصوصی جامع نظرِ ثانی ایس آئی آر 2026 کے عمل سے متعلق متعدد نکات پر سوال اٹھاتے ہوئے کرناٹک کے چیف الیکٹورل افسر سے تفصیلی تحریری وضاحت اور ضروری اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

چیف الیکٹورل افسر، کرناٹک کو 18 ستمبر کو ارسال کردہ خط میں ہری پرساد نے کہا کہ 24 اگست 2026 کو جاری کیے گئے مسودہ انتخابی فہرست کے سلسلے میں اعداد و شمار اور عملدرآمد کے مختلف پہلوؤں میں عدم مطابقت، غیر منسلک ووٹروں اور دیگر تکنیکی مسائل سامنے آئے ہیں، جن کی اسمبلی حلقہ وار جانچ ضروری ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ایس آئی آر 2026 کا عمل 2025 کی حتمی انتخابی فہرست کی بنیاد پر 5,54,22,344 ووٹروں کے ساتھ شروع ہوا۔ کانگریس نے سوال کیا ہے کہ 30 جون 2026 کو ایس آئی آر شروع ہونے کے وقت 2025 کی حتمی فہرست میں کوئی اضافہ، اخراج یا تصحیح کی گئی تھی یا نہیں، کیونکہ دونوں مراحل میں ووٹروں کی مجموعی تعداد میں یکسانیت نظر آتی ہے۔

ہری پرساد نے اے ایس ڈی ڈی او کے اعداد و شمار اور 2025 کی حتمی فہرست سے اخذ کردہ اخراج کے اعداد میں مختلف اسمبلی حلقوں میں عدم مطابقت کی نشاندہی کرتے ہوئے اسمبلی حلقہ وار اعداد و شمار کی تطبیق کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق بعض حلقوں میں دونوں اعداد و شمار میں فرق ہے، جس کی وضاحت ضروری ہے۔

خط میں غیر منسلک ووٹروں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بعض معاملات میں 2026 کے مسودے میں موجود ووٹروں کا متعلقہ بوتھ کی 2025 کی حتمی فہرست میں مماثل ریکارڈ نہیں مل رہا۔ ایسے معاملات کی ووٹر وار درجہ بندی اور وضاحت فراہم کرنے کی ضرورت ظاہر کی گئی ہے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے بعض اسمبلی حلقوں میں پولنگ بوتھوں کی بڑے پیمانے پر منتقلی کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق 2025 کی حتمی فہرست کے مقابلے میں بعض علاقوں کے پولنگ حصوں میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں، جس سے بوتھ وار تقابل اور انتخابی اعداد و شمار کا تجزیہ مشکل ہو رہا ہے۔

انہوں نے انتخابی حکام سے پرانے اور نئے پولنگ حصوں کی مکمل تفصیلات اور ان کی باہمی مطابقت کی فہرست فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر منتقلی کی وجوہات واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔

خط میں اپوزیشن کے لوک سبھا لیڈر راہل گاندھی کی جانب سے اٹھائے گئے ایک معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مہادیوپورہ اسمبلی حلقے کے ایس آئی آر 2026 کے مسودے میں بعض ریکارڈ میں مکان نمبر ’0‘ درج ہونے کا مسئلہ اب بھی برقرار ہے۔ ہری پرساد نے اسے انتخابی فہرست کی تیاری کے عمل میں مزید جانچ کا متقاضی معاملہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض اسمبلی حلقوں کی 2025 کی انتخابی فہرست کے پی ڈی ایف کے تمام حصے انتخابی کمیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب نہ ہونے کے باعث مطلوبہ تقابلی تجزیہ کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ اس سلسلے میں ضروری دستاویزات اور اعداد و شمار دستیاب کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ایس آئی آر کے اے ایس ڈی ڈی او اعداد و شمار میں تقریباً 1.08 کروڑ ووٹر مسودہ فہرست سے باہر دکھائے گئے ہیں، جبکہ مزید تقریباً 44 لاکھ ووٹر ’نو میپنگ‘ یا منطقی عدم مطابقت سے متعلق زمروں میں آتے ہیں۔ سرکاری طور پر 24 اگست کو جاری مسودہ فہرست میں 4,46,80,151 ووٹر درج تھے، جبکہ 16 جون کو انتخابی فہرست منجمد ہونے کے وقت تعداد 5,54,32,314 تھی؛ اے ایس ڈی ڈی او زمرے میں 1,07,96,415 افراد درج کیے گئے تھے۔ ہری پرساد نے کہا کہ اس پیمانے کے اعداد و شمار کی صورت میں ہر ووٹر کا ریکارڈ مکمل طور پر تطبیق اور جانچ کے عمل سے گزارا جانا چاہیے۔

خط میں منطقی عدم مطابقت سے متعلق اعداد و شمار اپ لوڈ کرنے اور بزرگ، بیمار یا دیگر حقیقی ووٹروں کی جانب سے اہل خانہ کو نمائندگی کی اجازت دینے جیسے فیصلوں میں تاخیر کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

ہری پرساد کے مطابق تاخیر کے باعث ووٹروں کو ضروری اصلاحات اور دعوے پیش کرنے کے لیے دستیاب وقت متاثر ہو سکتا ہے۔ موجودہ ایس آئی آر عمل میں تقریباً 43.8 لاکھ ووٹروں کو نوٹس جاری کیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آ چکی ہے۔ ہری پرساد نے چیف الیکٹورل افسر سے مطالبہ کیا کہ ایس آئی آر 2026 کے عمل کو مقررہ وقت پورا کرنے کی عجلت میں آگے نہ بڑھایا جائے اور نشاندہی کیے گئے تمام مسائل کی تفصیلی جانچ کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ تکنیکی طور پر انفرادی مسائل کی وضاحت ممکن ہے، لیکن مختلف عدم مطابقتوں، غیر منسلک ووٹروں، پولنگ بوتھوں کی منتقلی، منطقی تضادات اور معلومات کی فراہمی میں تاخیر کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو انتخابی فہرست کی شفافیت اور جانچ پذیری سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہر نکتے پر نقطہ وار تحریری وضاحت فراہم کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی اہل ووٹر انتخابی فہرست سے محروم نہ ہو۔

انتخابی حکام کے مطابق ایس آئی آر کے تحت اے ایس ڈی ڈی او زمرے میں شامل ہونا بذاتِ خود حتمی طور پر نام حذف ہونے کا مطلب نہیں ہے؛ مسودہ فہرست کے بعد متعلقہ ووٹروں کو دعوے اور اعتراضات پیش کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔


Share: