چھتیس گڑھ ، 2 /اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) چھتیس گڑھ کے بلاس پور میں این آئی اے عدالت نے جبری تبدیلی مذہب اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق معاملے میں گرفتار کیرالہ کی دو نن سسٹرز اور ایک قبائلی شخص کو نو دن بعد مشروط ضمانت دے دی ہے۔
25 جولائی کو درگ سے گرفتار سسٹر وندنا فرانسس، سسٹر پریتی اور ایک قبائلی شخص کو درگ سیشن کورٹ نے سماعت سے انکار کرتے ہوئے معاملہ این آئی اے کورٹ منتقل کیا تھا۔ اب بلاس پور کی این آئی اے عدالت نے تینوں کو پاسپورٹ جمع کرانے اور 50 ہزار روپے کے مچلکے پر ضمانت منظور کی ہے۔
ان کی گرفتاری بجرنگ دل کے الزامات کی بنیاد پر ہوئی تھی، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ نن سسٹرز نے نارائن پور کی تین لڑکیوں کو جبراً مذہب تبدیل کرایا اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث تھیں۔ تاہم، درخواست گزاروں نے عدالت میں یہ مؤقف رکھا کہ تینوں لڑکیاں اپنی مرضی سے روزگار کے لیے ان کے ادارے کے ساتھ گئی تھیں، اور لڑکیوں کے والدین نے بھی اس کی تصدیق کی۔
اس گرفتاری کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں اور عیسائی تنظیموں کی جانب سے زبردست احتجاج کیا گیا تھا، اور سوشل میڈیا پر بھی اس کیس پر شدید ردعمل دیکھنے کو ملا۔