ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار میں پیش آیا 15 سال بعد بادل پھٹنے کا معاملہ - پہاڑی کھسکنے سے سرنگ کا راستہ بند - بھٹکل میں سب سے زیادہ بارش

کاروار میں پیش آیا 15 سال بعد بادل پھٹنے کا معاملہ - پہاڑی کھسکنے سے سرنگ کا راستہ بند - بھٹکل میں سب سے زیادہ بارش

Fri, 13 Jun 2025 23:56:51    S O News
کاروار میں پیش آیا 15 سال بعد بادل پھٹنے کا معاملہ - پہاڑی کھسکنے سے سرنگ کا راستہ بند - بھٹکل میں سب سے زیادہ بارش

کاروار 13 / مئی (ایس او نیوز) کاروار میں تقریبا 15 سال بعد جمعرات کو بادل پھٹنے کا واقعہ پیش آنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ پورا شہر ندی اور نالوں میں تبدیل ہوگیا۔ زبردست بارش سے کئی سڑکوں پر ندیوں کی طرح پانی بہنے لگا اور بہت ہی زیادہ مقدار میں پانی دکانوں کے اندر گھسنے کی وجہ سے بے حساب نقصان کا اندیشہ پیدا ہوگیا۔ اس کے علاوہ ہبّو واڈا میں پہاڑی کھسکنے کا معاملہ پیش آیا، جس سے سرنگ کا راستہ بند ہو گیا ہے۔ 

البتہ ضلع اُترکنڑا میں سب سے زیادہ بارش بھٹکل میں ریکارڈ کی گئی۔ جمعرات صبح آٹھ بجے سے جمعہ صبح آٹھ بجے تک ہوئی بارش کی پیمائش کے مطابق بھٹکل میں 229.7 ملی میٹر بارش درج ہوئی ہے۔

بتایا گیا ہے کاروار میں بادل پھٹنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے، اس سے قبل 10 اکتوبر 2009 میں یہاں بادل پھٹنے کا واقعہ پیش آیا تھا جس کے بعد پورے کاروار شہر میں سیلابی کیفیت پیدا ہوگئی تھی اور اس کی وجہ سے بہت ہی بڑے پیمانے پر نقصان دیکھنے کو ملا تھا ۔ اس کے علاوہ کڑواڑ میں پہاڑی کھسکنے سے 13 افراد کی موت بھی واقع ہوئی تھی ۔ 

اب کی بارجو موسلا دھاربرسات ہوئی ہے اس سے وہی پرانی یادیں تازہ ہوگئی ہیں ۔ ہبّو واڑا میں جہاں پہاڑی کھسکنے کا واقعہ پیش آیا ہے وہاں پر بسنے والوں کو دوسرے محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا گیا ہے۔

بھٹکل میں سب سے زیادہ بارش: ضلع اُترکنڑا میں سب سے زیادہ بارش بھٹکل میں 229.7 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے، البتہ کاروار کےاسنوٹی میں 239 ملی میٹر بارش ناپی گئی ہے۔ کاروار سے ملی اطلاع کے مطابق محکمہ موسمیات کی طرف سے جمعرات صبح آٹھ بجے سے جمعہ صبح آٹھ بجے تک ناپی گئی پیمائش کے مطابق ہوناور میں 121.6 ملی میٹر، کمٹہ میں 58.2 ملی میٹر اور انکولہ میں 31.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

اسی طرح ضلع کے گھاٹ والے تعلقہ جات میں سرسی میں  21.5 ، سوپّا میں  19.8، سداپور میں 17.1 ، یلاپور میں 15.1 ، منڈگوڈ میں 12، ہلیال میں  5.7 اور ڈانڈیلی میں 6 ملی میٹر بارش  درج ہوئی ہے۔

سرکاری ذرائع سے ملی اطلاع کے  مطابق ساحلی کرناٹکا میں سب سے زیادہ بارش بھٹکل کے مُنڈلی میں 299 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، بیندور کے پڈوواری میں 282 اور بھٹکل کے بیلکے میں 277 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات نے اتر کنڑا، دکشن کنڑا اور اڈپی ضلع کے لئے 18جون تک تیز ہواوں کے ساتھ تیز سے کافی تیز بارش ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔

کاروار کے گھروں، اسپتالوں، دکانوں اور پارکنگ میں پانی داخل، لاکھوں کا نقصان: 
کاروار میں بدھ کی رات سے شروع ہونے والی موسلا دھار بارش نے جمعرات کو پورے شہر کو پانی پانی کر دیا۔ شہر کی گلیوں، سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں بارش کا پانی داخل ہونے کے سبب شہریوں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔

شہری جب صبح بیدار ہوئے تو گھروں کے آس پاس کی تباہ کن حالت دیکھ کر پریشان ہو گئے۔ پانی کی شدت اس قدر تھی کہ کئی گھروں کی کمپاؤنڈ دیواریں گرگئیں اور تقریباً 80 فیصد گھروں کے سامنے رکھی چپلیں اور جوتے بہہ گئے۔ گھروں کے قریب رکھی ہوئی چیزیں بھی پانی کی نذر ہو گئیں۔

زیر زمین پارکنگ میں پانی بھرگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں
کاروار کے کے ای بی دفتر کے قریب واقع 'لینڈ مارک پلازہ' اپارٹمنٹ کی انڈر گراؤنڈ پارکنگ میں بارش کا پانی بھر گیا، جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی 15 سے زائد کاریں اور بائکیں پانی میں ڈوب گئیں۔ سینکڑوں افراد اس منظر کو دیکھنے جمع ہو گئے۔ پانی نکالنے کے لیے موٹر پمپ کی مدد سے کوششیں کی گئیں۔

ضلع اسپتال کے وارڈز بھی متاثر
بدھ کی رات بارش کا پانی ضلع اسپتال کے وارڈز میں بھی داخل ہو گیا، جس کی وجہ سے مریضوں کو سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ فرش پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے مریض اپنے بیڈ سے پیر نیچے نہیں رکھ پا رہے تھے۔ جمعرات کی صبح وارڈز سے پانی نکالا گیا اور مریضوں کو دیگر وارڈز میں منتقل کیا گیا۔

متعدد علاقے زیر آب، اشیاء تباہ
رام کرشنا آشرم روڈ، ہبّو واڈا، کے ایچ بی کالونی، ہائی چرچ روڈ، کے ای بی روڈ، بانڈیشٹا سمیت کئی علاقوں میں گھروں کے اندر پانی بھر گیا۔ ہائی چرچ روڈ کے قریب الیکٹرانکس کی دکانوں میں پانی گھسنے سے قیمتی سامان خراب ہو گیا۔ ایک گودام میں پانی بھرنے سے چاول کی بوریاں بھی خراب ہو گئیں۔

کونے واڈا میں مٹی بہہ کر سڑک پر پھیل گئی
کونے واڈا روڈ پر مٹی بہہ کر سڑک پر پھیل گئی، جسے ہٹانے کے لیے JCB کا استعمال کرنا پڑا۔ اس علاقے کی بیشتر دکانوں اور گھروں میں بھی پانی داخل ہونے سے اہل خانہ کو بہت زیادہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔


Share: