ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار: ماہی گیروں کے امدادی فنڈ کے مبینہ غلط استعمال پر کانگریس لیڈر گنپتی مانگرے برہم

کاروار: ماہی گیروں کے امدادی فنڈ کے مبینہ غلط استعمال پر کانگریس لیڈر گنپتی مانگرے برہم

Fri, 28 Aug 2026 17:36:06    S O News
کاروار: ماہی گیروں کے امدادی فنڈ کے مبینہ غلط استعمال پر کانگریس لیڈر گنپتی مانگرے برہم

کاروار، 28 اگست (ایس او نیوز): ماہی گیروں کے لیے قائم ’’بحران راحت فنڈ‘‘ کے مبینہ غلط استعمال پر کانگریس کے ماہی گیر شعبہ کے علاقائی صدر گنپتی مانگرے نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رقم صرف حقیقی ماہی گیری کے دوران حادثات کا شکار ہونے والے ماہی گیروں اور ان کے اہل خانہ کی مدد کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔

مانگرے نے الزام عائد کیا کہ محکمہ ماہی گیری حقیقی ماہی گیروں کی موت کے معاملات میں معاوضہ جاری کرنے میں تاخیر کرتا ہے، جبکہ دریا کے کناروں پر تفریح یا موج مستی کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کو بھی ماہی گیروں کے بحران راحت فنڈ سے معاوضہ دیے جانے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔ انہوں نے اسے ماہی گیروں کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے حکومت کی ماہی گیر مخالف پالیسی پر سوال اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ بحران راحت فنڈ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ عام بجٹ یا سرکاری گرانٹ نہیں ہے بلکہ اس میں ماہی گیروں کی اپنی رقم شامل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والے پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی خریداری سے حاصل ہونے والی رقم میں سے ایک مقررہ حصہ اس فنڈ میں جمع ہوتا ہے۔ اس لیے ماہی گیروں سے جمع کی گئی رقم کو کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کرنا درست نہیں ہے۔

دستیاب سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس فنڈ کا بنیادی مقصد ماہی گیری کے دوران حادثاتی موت یا معذوری کا شکار ہونے والے ماہی گیروں کے خاندانوں کو مالی مدد فراہم کرنا ہے۔ سابقہ سرکاری دستاویزات میں بھی ماہی گیری کے دوران حادثاتی موت کی صورت میں متاثرہ خاندانوں اور معذوری کی صورت میں ماہی گیروں کے لیے معاوضے کی گنجائش درج ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 2017 میں حکومت نے بحران راحت فنڈ کے تحت مختلف معاوضوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت میکانائزڈ کشتی مالکان کو ڈیزل پر ملنے والی ٹیکس واپسی کی امداد میں سے فنڈ کے لیے مختص رقم کو 1.5 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ فنڈ کے لیے مخصوص رقم ماہی گیری کے شعبے سے ہی حاصل ہونے والی مالی شراکت سے وابستہ ہے۔ اس اجلاس میں گنپتی مانگرے بھی کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے موجود تھے۔ 

مانگرے اور دیگر ماہی گیر رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ بحران راحت فنڈ کی رقم کو صرف ان خاندانوں کی معاشی بحالی کے لیے استعمال کیا جائے جن کے گھر کا کمانے والا فرد ماہی گیری کے دوران جان گنواتا ہے۔ انہوں نے محکمہ ماہی گیری سے معاوضے کی درخواستوں کی فوری جانچ اور حقیقی مستحقین کو بروقت امداد فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے حالیہ برسوں میں ماہی گیری کے دوران موت کے واقعات میں دی جانے والی بحران راحت رقم میں اضافہ بھی کیا ہے۔ 2024 میں ریاستی وزیر برائے ماہی گیری منکال وئیدیا نے بتایا تھا کہ ماہی گیری کے دوران ہلاک ہونے والے ماہی گیروں کے اہل خانہ کو دی جانے والی رقم 6 لاکھ سے بڑھا کر 8 لاکھ روپے کی گئی ہے اور معاوضہ 24 گھنٹوں کے اندر فراہم کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔


Share: