ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں میڈیکل کالج کے لیے 30 ایکڑ جنگلاتی زمین منظور، تو غریبوں کو ان کی رہائشی زمین کیوں نہیں؟ ایڈوکیٹ ناگیندرا نائک کا وزیراعلیٰ کو مکتوب

بھٹکل میں میڈیکل کالج کے لیے 30 ایکڑ جنگلاتی زمین منظور، تو غریبوں کو ان کی رہائشی زمین کیوں نہیں؟ ایڈوکیٹ ناگیندرا نائک کا وزیراعلیٰ کو مکتوب

Sun, 01 Jun 2025 19:40:04    S O News
بھٹکل میں میڈیکل کالج کے لیے 30 ایکڑ جنگلاتی زمین منظور، تو غریبوں کو ان کی رہائشی زمین کیوں نہیں؟ ایڈوکیٹ ناگیندرا نائک کا وزیراعلیٰ کو مکتوب

بھٹکل، یکم جون (ایس او نیوز) بھٹکل کے بئیلور میں ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا کے ذریعے بینا وئیدیا میڈیکل کالج اینڈ ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل تعمیر کرنے کے  لئے  30 ایکڑ جنگلاتی زمین لیس پر فراہم کرنے کی تجویز جو گرام سبھا میں منظور کی گئی ہے اس کے تعلق سے ایک طرف سوشل میڈیا میں بعض افراد کی طرف سے اعتراضات اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف بھٹکل سے تعلق رکھنے والے ہائی کورٹ کے وکیل ناگیندرا نائک نے بینگلورو سے ویڈیو میسیج کے ذریعے ایک اور بہت ہی مثبت تجویز بھیجی ہے ۔

ایڈوکیٹ ناگیندرا نائک نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اس میں دو رائے ہرگز نہیں ہے کہ میڈیکل کالج اور ہاسپٹل کی تعمیر ضلع کے لئے بہت ہی ناگزیر ہے ، لیکن جب ایک نجی ادارے کے لئے گرام سبھا کی ذریعے 30/ ایکڑ جنگلاتی زمین منظور کرنے کی سفارش کرنا اور سرکاری افسران کی طرف سے اس تجویز کو منظوری کے لئے بھیجنا ممکن ہے تو پھر اسی کے ساتھ  ایک دو گنٹہ جنگلاتی زمین پر سالہا سال اور پشت در پشت بسنے والے عام افراد کے لئے بھی  زمین کی منظوری کے لئے تجویز کیوں نہ بھیجی جائے ۔
   
انہوں نے اتی کرم سکرم تجویز کے تحت اپنی زمین کے قانونی حقوق حاصل کرنے کے لئے درخواستیں دینے والے ہزاروں لوگوں کی درخواستیں سرکاری افسران کی طرف سے نامنظور کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب بڑے اور بااثر لوگوں کے لئے تیس ایکڑ تک کی جنگلاتی زمین  منظور کروائی جا سکتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ معمولی افراد کی دو ایک گنٹہ رہائشی زمین منظور کروانے کی گنجائش آسانی سے نکل سکتی ہے ۔

اس تعلق سے ایڈوکیٹ ناگیندرا نائک نے کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارامیا کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اُترکنڑا ضلع کے جنگلاتی آتی کرم داروں اور ہاڈی زمین پر بسنے والے غریب خاندانوں کے دیرینہ مطالبات پر بھی توجہ دے۔فیس بُک  صفحہ پر وزیراعلیٰ کے نام لکھے گئے  خط کی ایک نقل پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے اپنے تفصیلی خط میں ضلع انچارج وزیر اور بھٹکل کے رکن اسمبلی منکال وئیدیا کی جانب سے اسپتال قائم کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے زور دیا ہے کہ زمین کی منظوری کے معاملے میں دوہرا معیار اپنایا جا رہا ہے، جہاں طاقتور اداروں کو فوقیت دی جاتی ہے تو دوسری طرف عام شہریوں کے جائز مطالبات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

خط میں انہوں نے  لکھا ہے کہ بئیلور کی گرام سبھا نے حال ہی میں سوشیل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی سفارشات کے بعد جنگلاتی زمین کو اسپتال تعمیر کرنے لیس پر دینے کی تجویز کو منظوری دی ہے، جو کہ  ایک نادر مثال ہے انہوں نے لکھا ہے کہ افسران نے کسی نجی ادارے کے لیے جنگلاتی زمین کی منظوری کے لیے گرام سبھا سے اجازت لی ہے، لیکن  ہزاروں غریب افراد کی جانب سے داخل کردہ زمین ریگولرائزیشن کی درخواستیں اب تک التوا کا شکار ہیں یا مسترد کی جا چکی ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا: "جب ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج کے لیے 30 ایکڑ جنگلاتی زمین منظور کی جا سکتی ہے، تو پھر ان غریب خاندانوں کو کیوں نہ تھوڑی سی رہائشی زمین دی جائے، جو کئی دہائیوں سے جنگلاتی یا ہاڈی زمین پر رہتے آرہے ہیں؟" انہوں نے  اپنے خط میں خاص طور پر "اکرما-سکرما" اسکیم کے تحت ہزاروں درخواستوں کے رد کیے جانے کا بھی حوالہ دیا ہے۔

انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی ہے کہ اُترکنڑا ضلع کا بڑا حصہ جنگلاتی زمین پر مشتمل ہے، جہاں ریونیو زمین بہت کم دستیاب ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور رہائش کی ضروریات کے پیش نظرحکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سب کے لیے رہائش فراہم کرے، خاص طور پر جب یہ افراد قانونی دفعات جیسے کرناٹک لینڈ ریونیو ایکٹ کی دفعات 94(A) سے 94(D) اور فاریسٹ رائٹس ایکٹ (FRA) کے تحت اہل قرار پاتے ہوں۔

انہوں نے بھٹکل تعلقہ میں 2021 کے ایک معاملے کا بھی حوالہ دیا جہاں 77 ہاڈی باشندوں کی درخواستیں تحصیلدار نے بغیر کسی قانونی جانچ یا موقع معائنہ کے مسترد کر دیں—جسے ایڈوکیٹ نائک نے قانونی و انتظامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اپنے خط میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضلع کے جنگلاتی علاقوں میں بسنے والے افراد نے کبھی جنگل کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ پائیدار کاشتکاری کرتے رہے ہیں۔ "یہ لوگ تجارتی طور پر زمین کا استحصال نہیں کر رہے ہیں، اس لیے ان کے دعووں کو فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے تحت مرکز سے منظوری دلوا کر تسلیم کیا جانا چاہیے،"۔ ساتھ ہی انہوں نے مرڈیشور جیسے سیاحتی علاقوں میں زمین کی اونچی قیمتوں کا حوالہ بھی دیا، جہاں زمین کی قیمت ₹3 لاکھ سے ₹7 لاکھ فی گنٹہ ہے۔

فیس بک پر جاری کردہ ایک دوسرے ویڈیو پیغام میں ایڈوکیٹ نائک نے بلاک کانگریس صدر وینکٹیش نائک کے اس تبصرے کا بھی جواب دیا ہے جس میں ان پر میڈیکل کالج کی مخالفت کرنے کا اشارہ دیا گیا تھا۔ ایڈوکیٹ نائک نے واضح کیا، "میں اسپتال کی مخالفت نہیں کر رہا ہوں۔ بلکہ میں مکمل طور پر میڈیکل کالج کے قیام کی حمایت کرتا ہوں کیونکہ یہ ضلع کے لیے بہت ضروری ہے۔ لیکن انصاف سب کے لیے ہونا چاہیے۔ اگر ایک بڑے پروجیکٹ کو منظوری دی جا رہی ہے، تو یہ موقع اُن ہزاروں افراد کے مسائل حل کرنے کے لیے بھی استعمال ہونا چاہیے جنہیں نسلوں سے زمین کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہوا۔"

انہوں نے گرام پنچایت اور دیگر متعلقہ افسران سے پرزور اپیل کی ہے کہ بینا وئیدیا میڈیکل کالج کے لئے جنگلاتی زمین کی منظوری کے لئے فائل آگے روانہ کرتے وقت مقامی لوگوں کی چھوٹی سی رہائشی زمینوں کی فائلیں بھی اس کے ساتھ  روانہ کریں ۔ اس طرح بڑے منصوبے کے ساتھ اگر چھوٹے مسائل بھی حل ہوں، تو عوامی فلاح کے دروازے کھل سکتے ہیں۔

Click here for report in English
 


Share: